نذیر چوہان کی رہائی اور پھر گرفتاری، 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

لاہور ( پبلک نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی نذیر چوہان کو گزشتہ رات ضمانت ملی مگر انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور اس بار ان کی گرفتاری ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی طرف سے گرفتار کیا گیا ، عدالت نے انہیں دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے، اس بار بھی مذہبی عقائد کو نشانہ بنانے پر انہیں وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کی طرف سے ایف آئی آر پر گرفتار کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ضلع کچہری میں ایم پی اے نذیر چوہان کے کیس کی سماعت ہوئی ، انہیں گزشتہ رات ضمانت ملی تھی مگر انہیں عدالت کی طرف سے ایف آئی اے سائبر کرائم کی کی تحویل میں دو روزہ جسمانی ریمارنڈ پر دیدیا گیا ہے ، نذیر چوہان کو دوبارہ 31 جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

نذیر چوہان کو صبح سویرے ہی جوڈیشل مجسٹریٹ یوسف عبد الرحمن کی عدالت میں پیش کیا گیا ،جہاں انہیں جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا ،گزشتہ رات نذیر چوہان کو جیل سے ضمانت پر رہائی ملی تو انہیں کوٹ لکھپت جیل سے ایف آئی نے گرفتار کر لیا تھا ۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی نذیر چوہان کیخلاف وزیر اعظم عمران خان کے مشیر شہزاد اکبر نے مقدمہ درج کروایا ہے ،
مقدمہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم یونٹ نے درج کیا، مقدمے میں دو افراد جاوید بٹ اور وسیم راجہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے
، ایف آئی آر میں ان دونوں افراد کو سوشل میڈیا کا صحافی بتایا گیا ہے

شہزاد اکبر نے اپنی ایف آئی آر میں الزام لگایا ہے کہ نذیر چوہان نے سوشل میڈیا پر شہزاد اکبر کیخلاف نفرت انگیز تقریر کی اورمیرے مذہبی عقائد کو نشانہ بنایا ، ایف آئی اے کی انکوائری میں ثابت ہوا کہ نذیر چوہان نے جھوٹی افواہ پھیلائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں