علی سدپارہ کی لاش خطرناک مقام سے نکال لی گئی

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) معروف کوہ پیما علی سدپارہ کی لاش کو بوٹل نیک کے خطرناک مقام سے نکال لیا گیا ، ان کے بیٹے ساجد سدپارہ نے ارجنٹینا کے کوہ پیما کے ساتھ مل کر یہ مشن سرانجام دیا، والد کی میت کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور قرآن خوانی کی ۔

تفصیلات کے مطابق معروف کوہ پیما علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے اپنے والد کی لاش کو بوشل کے نیک کے خطرناک مقام سے نکال لیا، انہوں نے والد کا جسد خاکی ”بوٹل نیک“ سے کیمپ 4 پر منتقل کر دیا، ساجد سدپارہ نے اس موقع پر اپنی والدہ کی خواہش کے مطابق قرآن خوانی بھی کی اور اس مقام پر پاکستانی پرچم بھی بلند کر دیا۔

بوٹل نیک کا وہ خطرناک مقام جہاں پر علی سدپارہ اپنی ایک اور کوہ پیما ساتھی کے ہمراہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اس مقام سے ان کے جسد خاکی کو نکالنے کیلئے ساجد سدپارہ کی مدد ارجنٹینا کے ایک کوہ پیما نے بھی کی ،یاد رہے کہ 18 فروری کو علی سدپارہ سمیت لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کی گئی تھی جبکہ گزشتہ دنوں ایک ٹیم کو علی سدپارہ کی لاش بوٹل نیک کے خطرناک مقام پر ایک کھائی میں گری ہوئی نظر آئی تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں