کراچی میں کورونا کیسز کی شرح 33فیصد تک جا پہنچی

کراچی (پبلک نیوز) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ڈیلٹا ویرینٹ نے دنیا میں بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔ جن کو ویکسین ہوتی ہے۔ ان کو یہ وائرس ہوتو جاتا ہے لیکن یہ ان کو زیادہ متاثر نہیں کرتا ہے۔ اگر گھر میں ایک ہوا ہے تو باقی خود آئسو لیٹ کرلیں۔ ڈاکٹر باری کہتے ہیں کہ یہ دو سے ڈھائی ہزار نہیں بلکہ دس ہزار لوگ ہیں جو متاثر ہورہے ہیں۔ کیونکہ یہ ٹیسٹ نہیں کراتے ہیں۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں 24 فیصد کو ویکسین ہوئی ہے۔ پانچ فیصد لوگوں کو اسپتال کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم نے اور اسٹیک ہولڈرز کو بھی بلایا تھا۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ سب نے اپنی رائے دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ٹاسک فورس کی میٹنگ کے بعد اسد عمر اور ڈاکٹر فیصل سلطان سے بھی بات کی ہے۔ ان کی طرح تعاون کا یقین دلایا گیا ہے۔ یہ مکمل لاک ڈاؤن نہیں ہے۔ شہر کراچی کے لوگوں کو درخواست کرتا ہوں۔ ہمارے لاک ڈاؤن کو کامیاب کرنے میں ہماری مدد کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ 8 اگست تک لاک ڈاؤن رہے گا۔ 9 اگست کو لاک ڈاؤن کھولنے کی طرف جائیں گے۔ اگر یہ نو دن مدد کی گئی تو ہم اس کو روکنے کامیاب ہوں گئے۔ ہم مکمل طور پر پھیلاؤ تو نہیں ہوسکتے ہیں۔ کراچی کے ایک ضلع میں 33 فیصد کیسز ہو چکے ہیں۔ دیہی ایریا میں بھی چھ فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں