مہنگی ترین ایل این جی خریدنے پر تحقیقات کا مطالبہ

لاہور ( پبلک نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا ہے کہ ستمبر2021 میں11 ایل این جی جہازوں پر387 ملین امریکی ڈالر حکومت ادا کرے گی ، ٹرافیگورا کمپنی نے تحریری طورپر سستی ایل این جی کی پیشکش کی تھی جسے حکومت نے قبول نہ کیا ، اس وقت تین سال کا معاہدہ کرلیاجاتا تو 4 ڈالر پر ایل این جی دستیاب ہوتی ۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے ایک بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی نے 4 ڈالر کا معاہدہ نہ کیا،آج 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے زائد پر ایل این جی خریدرہی ہے ، سستی ایل این جی کا معاہدہ کیاہوتا تو پاکستان کو35.2 ملین ڈالر ھر جہاز پے بچت ہوتی ، سستی ایل این جی کا معاہدہ کرلیاجاتا تو اب تک ملک میں 12 کارگوز درآمد ہوتے ، ان 12 کارگوز پر پاکستان کو 422.4 ملین ڈالر کی مجموعی بچت ہوتی، ملک اور عوام کا بھلا ہوتا ۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کم از 14 کارگو منگواسکتی ہے لیکن دانستہ کم امپورٹ کی جارہی ہے ، اس حکمت عملی کی وجہ سے فرنس آئل سے مہنگی بجلی بنائی جارہی ہے ، اسی وجہ سے ملک میں سی این جی کے شعبے اور صنعت کے لئے گیس دستیاب نہیں ، ہماری تجویز مان لی جاتی تو ملک میں آج گیس اور بجلی کا بحران نہ ہوتا، قوم کو سستی گیس ملتی ۔

شہباز شریف نے کہا کہ یہ نااہلی نہیں بلکہ دولت کمانے کی ہوس کا نتیجہ ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئے ، سستی ایل این جی خریدنے والے جیلوں اور مقدمات کا سامنا کررہے ہیں، دنیا کی مہنگی ترین ایل این جی خریدنے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ، دنیا بھر میں ایل این جی کی خریداری کی طویل المدت معاہدے کئے جاتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سپاٹ خریداری کا طریقہ اپنایا جو دنیا کا کوئی ملک اختیارنہیں کرتا ، ذمہ دارانہ کا تعین کرکے انہیں کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے، پاکستان اور قوم کو کیوں لوٹا؟، آٹے چینی دوائی کی طرح ایل این جی میں بھی قوم کو لوٹا جارہا ہے ، پی ٹی آئی کی پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کی صورت نکل رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں