خواتین کو وراثت میں حصہ دیں ورنہ فوجداری مقدمہ ہو گا

کوئٹہ ( پبلک نیوز) خواتین کو وراثت میں حق نہ دینے والوں کیخلاف اب فوجداری مقدمے قائم ہوں گے، بلوچستان ہائیکورٹ نے بہت بڑا حکم دیدیا ، اب خواتین کو وراثت سے محروم رکھنے اور کسی بھی حیل و بہانے سے وراثتی جائیداد سے دستبردار کرنے پر سخت اقدام ہو گا

تفصیلات کے مطابق بلوچستان ہائیکورٹ نے خواتین کے وراثت میں حق سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس کامران ملا خیل کی طرف سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریونیو آفیسر اس بات پر پابند ہو گا کہ وہ فوجداری مقدمہ درج کرے، تمام سول عدالتیں وراثت سے متعلق زیر التوا مقدمات کو تین مہینوں کو اندر حل کریں۔

عدالت نے مزید حکم دیا کہ وراثت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ چھ ماہ کے اندر سنایا جائے گا، فیصلے کی کاپیاں متعلقہ محکموں کے علاوہ لڑکیوں کے سکول و کالج، جامعات اور دیگر مقامات پر تقسیم کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے تاکہ خواتین میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پھیلائی جا سکے۔

فیصلے کے مطابق تمام حقدار بشمول خواتین مکمل کئے بغیر وراثت کی تقسیم نہیں کی جا سکے گی، خواتین کا نام چھپانے یا نکالنے پر وراثت کی تقسیم کا عمل عدالت میں جائے بغیر ہی کالعدم تصور کیا جائے گا، کسی خاتون کو شادی ، کسی بھی قسم کے تحفے یا رقم کی بنیاد پر جائیداد کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا، اس کے ساتھ ساتھ نادرا محکمہ ریونیو کو خاندان کا شجرہ نسب فراہم کرنے کا بھی پابند ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں