اپنی بیٹی سمجھ کر افغان سفیر کی بیٹی کے کیس کو فالو کیا

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارا تھوڑا سا مسئلہ ہوا سندھ حکومت کے ساتھ ، سندھ حکومت کی کوشش تھی کہ لاک ڈاؤن کر دیں،لاک ڈاؤن بالکل ٹھیک فیصلہ ہے، اگر آپ لاک ڈاؤن کریں گے تو اس کا پھیلاؤ کم ہو جائے گا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن سے کیا ہم اپنے ملک کو، اپنی معیشت کو بچا لیں اور اس کے بعد جو بھوک پیدا ہو گی، جو دیہاڑی دار ہے ، خاص طور پر غریب طبقہ لاک ڈاؤن میں کیسے گزارا کرے گا۔جب تک اس کا جواب آپ کے پاس نہیں ہے کبھی لاک ڈاؤن نہ کریں۔

عوام کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے سیشن میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہندوستان نے اپنی تباہی کر لی، آج ہندوستان میں حالات دیکھیں، غربت دیکھیں ، آج ہندوستان کے اندر حالات دیکھیں ، غربت دیکھیں ، ان کی معیشت کا حال دیکھیں، آج اللہ کا شکر ہے پاکستان کدھر ہے اور ہندوستان کی تباہی کتنی ہوئی، ان کی حکومت نے دم لاک ڈاؤن کر دیا سوچے سمجھے بغیر کہ عوام کا کیا بنے گا، لوگ سفر کیسے کریں گے، انہوں کچھ نہیں سوچا، انہوں نے اوپر کی کلاس کا سوچا ۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ جب آپ لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو ذہن میں ڈال لیں کہ آپ لوگوں کو بھوکا رکھیں گے، اگر آپ کے پاس وسائل ہی نہیں ہیں کہ عوام تک کھانا پہنچا سکیں تو بھوکے لوگوں کو آپ لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے۔ ہمارا اب تک اپنی حکمت کو استعمال کرتے ہوئے یہی ماننا ہے کہ سوچ سمجھ کر اس میں سے نکلنا ہے، اس کا حل سمارٹ لاک ڈاؤن ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب تک بچوں اور ٹیچرز کو ویکسین نہ لگائیں سکول بھی نہ کھولیں کیونکہ اس کا ایک ہی علاج ہے کہ ویکسین لگائی جائے۔ہم تین کروڑ لوگوں کو اب تک ٹیکے لگا چکے ہیں، اس کا حل صرف ویکسین لگانا ہے، ہماری معیشت اب اوپر جا سکتی ہے، ہم نے کسی صورت لاک ڈاؤن کر کے اپنی معیشت کو تباہ نہیں کرنا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے سربراہ میڈیا سے ڈرتے ہیں جنہوں نے قانون توڑنا ہو۔ میرے اگر لندن میں چوری سے بنائے اپارٹمنٹ ہوں تو مجھے سارا دن آزاد میڈیا سے ڈر لگے گا، میں آپ کو یہ واضح کر دوں کہ آزادی رائے ایک ملک کیلئے بہت بڑی نعمت ہے ، صحیح صحافت ملک کیلئے بہت بڑی نعمت ہے۔اتنے زیادہ مسائل پہلے دن سے ہمیں درپیش آئے کہ تو کھیلوں کو میں زیادہ وقت نہیں دے سکا۔ میں نے پاکستان کی سپورٹس کو دیکھا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کھیلوں میں پوری دنیا میں کامیاب تھا، کرکٹ ، ہاکی ، سکوائش ۔ ہم نے وہ دور دیکھا ہے اور پھر تنزلی بھی دیکھتی ہے اور بدقسمتی سے جو ہم نیچے آئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ دو خاندانوں نے اس ملک کی تباہی کی ہے، ایک تو پیسہ لوٹا ، ایک ادارے تباہ کئے۔ پیسے لوٹنے کیلئے آپ کو ادارے کمزور کرنے پڑتے ہیں، مثلاً اگر ادارے مضبوط ہوں تو میں پیسہ کیسے بناؤں گا، پہلی دفعہ ہے کہ نیب نے بڑے بڑے ناموں کو پکڑا ہے، پہلے تو چھوٹے چھوٹے لوگوں کو پکڑتی تھی۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اب بھی وہی نیب ہے۔ انہوں نے بے شرمی سے ملک کو لوٹا کیونکہ نیب کا چیئر مین ان کا اپنا تھا ۔ اب اسی نیب کے ہوتے ہوئے ان کی چیخیں نکل گئیں ہیں، جس طرح نیب کا ادارہ تباہ کیا اسی طرح سارے ادارے تباہ ہوئے، کھیلوں کے ادارے تباہ ہوئے، سفارشی بٹھا دئیے،سپورٹس میں ہم دنیا سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں، دنیا میں ادارے اچھے ہیں اس لئے وہ میرٹ کی وجہ سے بہتر طریقے سوچ رہے ہیں، وہ جدید تربیت کے طریقے لا رہے ہوتے ہیں، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جہانگیر خان اور جان شیر خان چیمپئن بن گئے مگر ہم نے ادارہ نہیں بنایا۔

انہوں نے کہا کہ نور کا کیس میں خود پہلے دن سے فالو کر رہا ہوں، اس کی ایک ایک چیز کا مجھے پتہ ہے میں نے ساری تفصیل لی ہوئی ہے، یہ بہت خوفناک قسم کا کیس ہے، اس کے اندر سارے سٹاف کے سامنے دو دن میں سارا واقعہ ہوا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ بڑے مضبوط خاندان سے ہے جو قاتل ہے۔ اس کیس میں کوئی نہیں بچے گا، اگر وہ دوہری شہریت بھی رکھتا ہے یا امریکہ کی شہریت ہے تو وہ بچنے نہیں لگا ۔ نور ، جیسے ہم سب کی بیٹی ہو ایسا ہم سوچتے ہیں، اس سے پہلے افغان سفیر کی بیٹی کے واقعہ کو بھی میں نے ایسے فالو کیا جیسے میری اپنی بیٹی ہے، افغانستانوں ہمارے اپنے لوگ ہیں، میں پولیس کو داد دوں گا کہ انہوں نے اس کی ساری تفتیش کی۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں اپوزیشن کے امپائر ، ان کی حکومت نے الیکشن کروایا ،سارا عملہ ان کا ، پولیس انہوں نے ساری جگہ پر لگائی، الیکشن کمیشن ان کی مرضی کی ، سنئیر ممبر الیکشن کمیشن مسلم لیگ(ن) کے وزیر اعظم کا ہم زلف تھا، تو پھر دھاندلی کیسے ہو گئی ، ایسی بھی دھاندلی کبھی نہیں دیکھی کہ وزیر اعظم اور عملہ سب آپ کا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کا صرف ایک حل ہے کہ ای ووٹنگ سسٹم لایا جائے، اس پر ہم نے زور لگا دیا ہے، میڈیا کو بھی دکھا رہے ہیں، قوم سمجھ جائے گی کہ دھاندلی کے مسئلے کا یہی حل ہے۔ امریکہ میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے تو کیوں نہیں ثابت کر سکا کیونکہ وہاں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز تھی کیونکہ جہاں بھی وہ گیا انہوں نے سب رزلٹ دکھا دئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں