سندھ میں نادر شاہی لاک ڈاؤن، مرادی اور مودی میں فرق نہیں

کراچی (ویب ڈیسک) اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ میں نادر شاہی لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔ مرادی اور مودی سرکار میں فرق نہیں۔

اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کووڈ 19 کے دور میں سیاست کو دور رکھتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر سطح، صحت کے سطح روزمرہ کے معاملات کو دیکھ کر حکومتیں فیصلہ کرتی ہیں۔ کئی ممالک سے زیادہ بہتر ہمارے ملک نے فیصلے کیے۔

سندھ کو تمام فیصلے این سی او سی وفاق کو سامنے رکھ کرنے چاہیے تھے۔ سندھ حکومت نے فیصلوں میں من مانی کی، سندھ حکومت صرف زبانی جمع خرچ کررہی ہے۔ سندھ حکومت کے اکثر فیصلے سیاسی بنیادوں پر سازش ہیں۔


لاک ڈاؤن میں فیکٹرییز، ٹرانسپورٹ بند کردیے، سندھ حکومت کے فیصلے ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔ آج ویکسین سینٹر بند کیے جارہے ہیں، سندھ کے کئی اضلاع میں سینٹر کام نہیں کررہے ہیں۔ وفاق نے سندھ کو ویکسین فراہم کی، مرادی اور مودی سرکار میں فرق نہیں۔

مودی نے کشمیر اور بھارت میں لاک ڈاؤن لگایا, مرادی نے سندھ میں لاک ڈاؤن لگادیا ہے۔ ان فیصلوں سے پاکستان کی معیشت کو خطرہ ہوا ہے۔ ایک ہفتے کا لاک ڈاؤن پاکستان کو کئی ماہ واپس لے جاسکتا ہے، ہمارے کئی لوگ ڈیلی ویجر ہیں۔

پورے سندھ میں صحت کی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ ہیپاٹائٹس، کتوں کے کاٹنے کی مراد علی شاہ کو پروا نہیں۔ لوگوں سے گزارش ہے ماسک پہنیں ویکسین لگوائیں۔ سندھ حکومت صرف الزام تراشی میں مصروف ہے۔

ہم وزیراعظم کو سلام پیش کرتے ہیں، پاکستان بڑے ڈیزاسٹر سے بچ گیا۔ اسد عمر اور ان کی ٹیم نے وبا میں بہتر کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں جو فیصلے ہوئے ہیں ہم اس پر عمل کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں