اولمپکس فائنل: نیزہ باز ارشد ندیم کی کٹھن زندگی کی کہانی

میاں چنوں ( پبلک نیوز) ٹوکیو اولمپکس میں نیزہ بازی کے فائنل میں پہنچنے والے ارشد ندیم ایک مزدور کے بیٹے ہیں، ان کا تعلق میاں چنوں کے ایک انتہائی پسماندہ گائوں کے غریب خاندان سے ہے۔ انہوں نے قریبی گاؤں کے سکول سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی مگر ان کے جنون کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے گاؤں کے گراؤنڈ میں نیزہ بازی کی مشق کیا کرتےتھے۔

ارشد ندیم نے گاؤں میں اپنے گھر کے صحن میں دیسی طریقے سے ورزش کے طریقے بنا رکھے تھے ، ان کے پاس اپنی ڈائٹ اور فٹنس کیلئے وسائل نہیں تھے مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری، ارشد ندیم پہلے کرکٹ کھیلتے تھے مگر ان کے والد کے مطابق ان کے مشورہ سے انہوں نے نیزہ بازی کی طرف توجہ دینا شروع کی۔

ارشد ندیم کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرے دوست میاں چنوں میں رشید صاحب تھے جو ارشد ندیم کے کوچ تھے، میں نے انہیں کہا کہ وہ ارشد ندیم کی نیزہ بازی میں پریکٹس کروائیں، اللہ سے دعا کی ، کامیابی ملی اور آگے بھی کامیابی ملے گی، میں ایک راج مزدور ہوں ، بہت مشکل سے میں نے اپنی اولاد کو پالا ہے۔

ارشد ندیم کے بھائی وسیم نے بتایا کہ ہمارا بھائی بہت اچھا ہے، ہم سب بھائی ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں، ارشد نے بہت محنت کی ہے۔ انشا اللہ وہ فائنل بھی جیتیں گے، تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ دعا کریں تاکہ ارشد گولڈ میڈل لیکر واپس آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں