بشریٰ راجپر 48

کراچی: 11ویں کلاس کی بشریٰ راجپر کو 5 اوباشوں نے زیادتی کا نشانہ بنا دیا

کراچی (پبلک نیوز) گلشن حدید کے علاقہ میں 11ویں کلاس کی بشریٰ راجپر کو کالج سے واپسی پر 5 اوباشوں نے زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔ باپ کی میڈیا سے گفتگو میں رو رو کر انصاف کی دوہائیاں، ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج، دو ملزمان کے پکڑے جانے کی بھی اطلاع۔

اس واقعہ کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ #JusticeForBushraRajpar دیکھنے میں آیا جس پر لوگوں نے ریپسٹوں کو سر عام پھانسی کا مطالبہ بھی کر دیا۔ متعدد ٹوئٹس میں گزشتہ روز آنے والے زلزلہ کا بھی ذکر دیکھنے میں جس میں کہا گیا کہ ایسے ہی واقعات کی وجہ سے زلزلے آتے ہیں۔

بشریٰ راجپر کے حق میں مختلف جگہوں پر احتجاج بھی کیے گئے جس میں مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کی صرف ایک ہی سزا ہے اور سر عام پھانسی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تین ملزمان نے طالبہ کو کالج جاتے ہوئے تین روز قبل اغوا کیا اور گزشتہ روز ڈیفنس کے علاقہ میں پھینک کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جس میں دو معلوم افراد ہیں جبکہ تین افراد کو نامعلوم قرار دیا گیا ہے۔

کراچی ضلع کونسل کے سابق چیئرمین سلمان مراد نے پیپلز پارٹی ملیر کے سیکرٹری انفارمیشن عباس تالپور کے ہمراہ متاثر خاندان کے گھر آئے جہاں پر انھوں نے بشریٰ راجپر کے والد سلیمان راجپر کو مکمل تعاون اور انصاف کی فراہمی کے لیے یقین دہانی کرائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں