ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کا سفر!

ٹوکیو اولمپکس میں پاکستانی سفر اختتام پذیر ہوا۔ ان مقابلوں میں پاکستان کی جانب سے 10 ایتھلیٹس اور 12 آفیشلز پہنچے۔ ٹوکیو اولمپکس وہ پہاڑ ثابت ہوا جس کو پاکستانی ایتھلیٹس سر نہ کر سکے۔

اولمپکس میں پاکستان کے 10 ایتھلیٹس گئے۔ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ 3 خواتین ایتھلیٹس کو بھی شامل کیا گیا۔ تمام پاکستانی ایتھلیٹس نے کل 6 مختلف کھیلوں بیڈمنٹن، ایتھلیٹکس، سوئمنگ، جوڈو، نیزہ بازی اور نشانہ بازی کے 9 ایونٹس میں حصہ لیا۔

ماحور شہزاد (بیڈمنٹن)


ماحور شہزاد سب سے پہلے 24 جولائی کو جاپانی حریف کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوئیں۔ فائنلز میں پہنچنے کے لیے ایک اور موقع بھی تھا جب 27 جولائی کو انگلش کھلاڑی سے شکست کھا کر باہر ہوئیں۔
گلفام جوزف (شوٹر)


پاکستانی کھلاڑی شوٹر گلفام جوزف 24 جولائی کو اس وقت باہر ہو گئے جب 10 میٹر ائیر پسٹل ایونٹ میں حصہ لینے پہنچے۔ کل 36 شوٹرز تھے، ان میں 8 نے فائنل کے لیے کوالیفائی کرنا تھا۔ گلفام نے 600 میں سے 578 شاٹس درست لگائے۔ ان کے حریفوں میں چین اور سربیا کے شوٹرز بھی تھے جن کا مقابلہ برابر تھا مگر معمولی فرق سے گلفام باہر ہو گئے۔

طلحہ طالب (ویٹ لیفٹنگ)


25 جولائی کو ویٹ لفٹر طلحہ طالب کا مقابلہ تھا۔ انھوں نے حریفوں سے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور پاکستانیوں کے دل جیتے۔ اسنیچ میں 150 کلو جبکہ کلین اینڈ جرک میں 170 کلو کر بھی وہ میڈل سے محروم کیونکہ ان کا وزن دو کلو کم تھا۔

حسیب طارق (سوئمنگ)


100میٹر فری اسٹائل سوئمنگ (تیراکی) کے لیے پاکستان کے حسیب طارق میدان میں آئے۔ انھوں نے 8 سوئمرز میں سے چھٹی پوزیشن حاصل کی۔ تمام ہیٹس میں حسیب کا 70 تیراکوں میں سے 62 واں نمبر تھا۔

بسمہ خان (سوئمنگ)


30 ویمنز سوئمنگ کی 50 میٹر فری اسٹائل کیٹیگری میں بسمہ خان کو حصہ لینے پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بسمہ ایونٹ کی 81 تیراکوں میں سے 56 ویں پر رہیں۔

شاہ حسین شاہ (جوڈو)


جوڈو کے لیے شاہ حسین شاہ نے عالمی رینکنگ میں 13 ویں نمبر پر موجود مصر کے رمضان درویش سے پنجہ لڑایا۔ شاہ حسین مصری کھلاڑی کے آگے ٹک نہ سکے۔

غلام مصطفیٰ بشیر اور خلیل اختر (نشانہ بازی)


نشانہ بازی کے مقابلوں میں غلام مصطفیٰ بشیر اور خلیل اختر رسائی کے لیے اپنا زور مارا مگر ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ مقابلہ میں غلام مصطفی بشیر کی پہلے مرحلہ میں چھٹی اور خلیل اختر کی 16ویں پوزیشن تھی اور اگلے روز 10 اور 15 بالترتیب پوزیشنز کے ساتھ ایونٹ سے باہر ہوئے۔

نجمہ پروین (دوڑ)

خواتین کی 200 میٹر دوڑ میں نجمہ پروین نے 2 اگست کو حصہ لینا تھا۔ انھوں نے کل کھلاڑیوں میں سب سے آخری پوزیشن حاصل کی۔ نجمہ دو اولمپکس کھیلنے والی پاکستانی کی پہلی خاتون ایتھلیٹ ہیں۔

ارشد ندیم (نیزہ بازی)


ارشد ندیم وہ واحد ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے ٹوکیو اولمپکس میں فائنل تک رسائی حاصل کی۔ تاہم وہ بھی میڈل نہ جیت سکے۔ انھوں نے جیولین تھرو (نیزہ بازی) کے مقابلوں میں حصہ لیا۔ انھوں نے 32 ایتھلیٹس میں سے فائنل تک راستہ بنایا۔ 7 اگست کو فائنل کھیلا گیا مگر میڈل حاصل نہ کر سکے اور پانچویں پوزیشن کے ساتھ اپنے سفر کا اختتام کیا۔

لہذا پاکستان کے 10 کھلاڑی ایک بھی میڈل جیتنے میں ناکام رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں