تعویزوں پر ملک چلے تو سہی، ان پر بات کی جائے تو غلط ہے

لاہور(پبلک نیوز)‌مسلم لیگ ن کی رہنماء عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ملک تعویزوں پر چلے تو غلط نہیں لیکن اگر تعویزوں پر بات کی جائے تو غلط ہے، سیاسی ورکروں کو باقاعدہ تشدد کیا جاتا ہے.

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں عظمیٰ بخاری اور عطاء تارڑ نے اپنی پریس کانفرنس میں حکومت پر کڑی تنقید کی، عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سلطنت عمرانیہ اپنے لیے اداروں کو استعمال کیا جارہا ہے، سلامتی کونسل میں ہمیں کو بلانا مناسب نہیں سمجھتا ہے، عمران خان کو ایک ہی بات کی سمجھ ہے شہباز شریف کو جیل بھیجنا ہے، سپریم کورٹ نے کہا نیب کو سیاسی مخالفین کی زبان بندی اور سیاسی انجئینرنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، چئیر مین نیب کہتے ہیں ہم فیس نہیں کیس دیکھتے ہیں، چئیر مین نیب کے خاندان اور ذات پر نہیں جانا چاہتے لیکن جہاں تک آپ چلے گئے ہیں وہاں سے واپسی کا راستہ ممکن نہیں۔کیا آپکو آٹا چور چینی چور ادویات چوروں کا فیس اچھا لگتا ہے.

اس موقع پر عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں کو سیاسی جماعت کے ونگ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، ایف آئی اے کو سیاسی جماعتوں اور صحافیوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے اسکی مزمت کرتے ہیں، عمران خان کی روحانیت سے وابستگی ہے تو اس میں کیا بری بات ہے، جہاں بھی روحانی سلسلے کی بات کی جائے وہاں سائبر ونگ بہت ایکٹو ہوجاتا ہے، شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں بلایا جاتا ہے اور آشیانہ اقبال کیس میں گرفتار کر لیا جاتا ہے، پھر گندہ نالہ کیس بنا دیا جاتا ہے اس میں سے بھی کچھ نہیں نکلا، عمران خان اور چئیر مین نیب سن لیں اس دفعہ ہم شہباز شریف کو جیل نہیں جانے دیں گے، شہزاد اکبر کی تلاش گمشدگی کا اشتہار دینا پڑے گا کہاں ہے شہزاد اکبر جو ڈیڑھ گھنٹہ پریس کانفرنس کرتے تھے، سرکاری خزانے پر لوٹ مار جاری ہے.

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے ہر کیس کی تحقیقات میں تعاون کیا ہے، نیب کے تینوں کیسز میں آج تک کچھ نہیں نکلا، عدالتوں اور سیاسی میدان میں ڈٙ ٹ کر مقابلہ کریںگے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں