ملزم ناظم نے پہلا قتل کیوں کیا؟ خاندانی حدود اربعہ کیا ہے؟

لاہور ( پبلک نیوز) مبشر کھوکھر قتل کیس میں بہت ہی حیران کن انکشافات ہو رہے ہیں۔ ملزم ناظم اس سے قبل مبشر کھوکھر کا ملازم بھی رہا ہے اور اس کے گن مین کے طورپر نوکری کرتا رہا ہے جبکہ اس کا بڑا بھائی اسلم بھی مبشر کھوکھر کا ملازم رہا ۔

تفصیلات کے مطابق ملزم ناظم کی تمام ہسٹری اور اس کے کارناموں کی تفصیل پبلک نیوز نے حاصل کر لی ہے، ملزم ناظم نے محمد منشاء نامی شخص کو اپنے بھائی کے قتل کی جھوٹی گواہی نہ دینے پر قتل کیا ہوا ہے۔ ملزم ناظم 3بھائی ہیں سب سے بڑے بھائی کا نام اسلم عرف بلا تھا جبکہ دوسرے بھائی کا نام اعظم ہے، ملزم کا بھائی اعظم بھی محنت مزدوری کرتا ہے جبکہ ان کے والد کا 1990ء میں انتقال ہوگیا تھا ان کی2بہنیں ہیں اور والدہ بھی زندہ ہے، ملزم کا خود بھی کوئی روز گار نہیں تھا بلکہ پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزم چوری اور ڈکیتی کی بعض وارداتوں میں بھی ملوث رہا۔

ناظم ملک نے اس سے قبل 2012 میں محمد منشاء کو اس لئے قتل کیا کہ اس کا نام اسلم عرف بلا کے قتل میں گواہوں کی فہرست میں تھا ،ملزم ناظم نے محمد منشا پر دباؤ ڈالا کہ کہ تم میرے بھائی کے قتل کے گواہ ہو تم گواہی دو لیکن محمد منشاء نے جھوٹی گواہی دینے سے انکار کردیا ،جس پر ملزم ناظم نے 26ستمبر 2012ء کو چوہنگ کے علاقہ میں حاجی محمد منشاء جو کیری ڈبہ رینٹ پر چلاتا تھا اسےاپنے ایک ساتھی کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ہوکر فائرنگ کرکے قتل کردیا،جس کا مقدمہ مقتول محمد منشاء کے بھائی محمد مشتاق کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج ہو ا جس کا نمبر 1066/2012ءہے۔

پولیس نے ملزمان ناظم اور ندیم کو گرفتار کرکے ضمنی بیان میں نامزد کردیا گیا،جس پر سیشن جج کی عدالت نے ناظم کو موت کی سزا اور ندیم کو عمر قید کی سزا دی ، ناظم نے ہائی کورٹ میں اپیل کی تو اس کی ضمانت منظور ہوگئی تو وہ 2019ءمیں رہا ہوگیا، ناظم کے مالی حالات خراب ہوئے تو وہ ملک مبشر کا گن مین بھی رہا ،بعد ازاں ملک اسد فیملی نے سیاست میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا تو اس نے نیوٹرل ہونے کے لئے ملزم ناظم سے ہاتھ اٹھا لیا۔

معلوم ہوا ہے کہ ملک مبشر جو مانووال میں ریت کا کام کرتا تھا وہ بھی ڈیفنس لاہور شفٹ ہو گیا تاہم ناظم نے دل میں رنجش رکھی ، ناظم نے بہت بار ملک مبشر سے رابط کی کوشش کی تو ملک خاندان کہتا کہ وہ ان کی فیملی کا خیرخواہ ہے تاہم اس سے زیادہ انہیں لفٹ نہیں کروائی ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پرانے تعلقات کے باوجود اسد کھوکھر کی طرف سے ملزم ناظم کے عزیز و اقارب کو دعوت ولیمہ پر مدعو نہیں کیا گیا۔

ملزم ناظم پر یہ بھی الزام لگ رہے ہیں کہ وہ اجرتی قاتل کے طور پر کام کرتا تھا اور مبشر کھوکھر بھی اس وجہ سے مارا گیا کیونکہ کہ ملزم ناظم نے پولیس کو بتایا کہ جب وہ شادی کی تقریب میں گیا تو ملک مبشر نے اسے دیکھ کر دور سے ہاتھ سے سلام کیا کیونکہ اس وقت وزیراعلیٰ موجود تھے مگر ملزم ناظم نے اس سلام کے جواب میں موقع ملنے پر اس پر گولیاں داغ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں