ڈاکٹر رتھ فاؤ کی چوتھی برسی ، عظیم محسنہ کی داستان حیات

کراچی ( پبلک نیوز ) کوڑھ ایک ایسا مرض تھا جسے اچھوت کا درجہ حاصل تھا ، ایسے مریضوں سے لوگ کنی کتراتے تھے مگر اجلے چہرے اور دل والی ڈاکٹر رتھ فاؤ نے ان کی مزاج پرستی اور علاج کیلئے اپنی زندگی وقف کر دی ۔عظیم محسنہ کی آج چوتھی برسی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر رتھ کیتھرینامارتھا فاؤ کی پیدائش جرمنی میں ہوئی، لیکن انہوں نے اپنی جوانی اور ساری عمر کوڑھ کے مریضوں اور عظیم پاکستان کیلئے وقف کردی 1960 کی دہائی وہ وقت تھا جب پاکستان میں جزام کے مریضوں کی تعداد ہزاروں میں تھی، ڈاکٹر رتھ فاؤ جرمنی میں مقیم تھیں اور انہوں نے ان جزام کے مریضوں کے بارے میں ایک ڈاکیومینٹری دیکھی اور پھر فیصلہ کر لیا کہ وہ ان بے سہارا مریضوں کی مدد کریں گی،وہ پاکستان تشریف لائیں اور جب انہوں نے خدمت خلق کا کام شروع کیا تو پھر ہمیشہ کیلئے پاکستان کی ہو رہیں۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ نے کراچی ریلوے سٹیشن کے عقب میں ایک بستی جسے کوڑھیوں کی بستی کے نام سے جانا جاتا تھا وہاں پر ایک فری کلینک بنایا ، اس روڈ کو آج میکلوڈ روڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ میری ایڈیلیڈ لپروسی سنٹر کے نام سے اس کلینک میں نا صرف جزام کے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا بلکہ ان کے لواحقین کی مدد بھی کی جاتی تھیں،بعد ازاں کلینکس کا یہ سلسلہ کراچی کے دیگر علاقوں تک بڑھایا گیا۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ کا مشن تھا کہ وہ پاکستان سے جزام کے مریضوں کا خاتمہ کریں گے، اس مقصد کیلئے انہوں نے اپنی آبائی ملک جرمنی سے عطیات جمع کرتیں اور پاکستان آکر ان مریضوں پر خرچ کرتیں، ان کے کلینکس کا سلسلہ جلد ہی کراچی سے بڑھ کر ملک گیر سطح پر پہنچ گیا، 1988 میں حکومت پاکستان نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کو پاکستان کی شہریت دی ، ان کی خدمات کے اعتراف پاکستان، جرمنی اور کئی دیگر ممالک انہیں قومی اعزازات سے نوازا، جن میں نشان قائد اعظم ، ہلال امتیاز، جرمنی کا آرڈر آف میرٹ اور دیگر اعزازت حاصل ہیں،عظیم ڈاکٹر رتھ فاؤ کا آخری وقت بھی انہیں مریضوں کے درمیان آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں