چچا کے قتل کی کہانی ہی جھوٹی نکلی تو بدلہ کس بات کا لیا ؟

لاہور ( ویب ڈیسک ) مبشر کھوکھر کیس میں مزید اہم انکشافات ، ملزم ناظم ملک کا کوئی چچا قتل نہیں ہوا اور اس نے پیسے لے کر مبشر کھوکھر کو قتل کیا ہے کیونکہ ملزم ناظم اجرتی قاتل کے طور پر کام کرتا تھا۔ ملزم نے اس قبل مقتول محمد منشا کا قتل صرف اس لئے کیا کہ اس نے جھوٹی گواہی دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ملزم ناظم کے ہاتھوں اس سے قبل قتل ہونے والے مقتول محمد منشاء کے بھائی اور کیس کے مدعی محمد مشتاق نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ملزم ناظم کا کوئی چچا قتل نہیں ہوا بلکہ ہمارے خاندان کے کئی افراد قتل ہو چکے ہیں،انھوں نے کہا کہ ملزم ناظم جھوٹ بول رہا ہے کہ اس نے اپنے چچا کے قتل کا بدلہ لیا کیونکہ ملزم بھی میرا قریبی عزیز ہے۔

اس کا کوئی چچا قتل ہی نہیں ہوا اس نے میرے بھائی کو قتل کردیا کیونکہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دینا چاہتا تھا ،جب اسلم عرف بلا کا قتل ہوا اس وقت ناظم کی عمر کم تھی اسے اصل حالات و اقعات کا تو علم ہی نہیں ،تاہم 2012ء میں جب اسلم کے قتل کے تمام ملزمان گرفتار ہوگئے تو اس نے کہا کہ گواہوں کے لسٹ میں محمد منشاء شامل ہے وہ گواہی دے تو اسے سمجھایا کہ تم چھوٹے تھے ۔

ملزم کا بڑا بھائی اسلم تو ملک مبشرکھوکھر کا ذاتی دوست اور ملازم سمجھا جاتا تھا اس کے بعد ناظم اور اس کا بھائی اعظم بھی ملک مبشر کھوکھرکے ٹکڑوں پر پلتے تھے ،اسے میرے بھائی کے قتل کی رنجش کس بات کی ہے اس نے تو اسے خود قتل کیا اور جب ناظم رہا ہوکر آیا اس کے بعد بھی یہ تواتر سے ملک فیملی کو ملتا رہا ہے اگر اس نے بدلہ لینا تھا تو اس کے پاس اور کئی موقعے تھے۔

ملک اسد اور ملک مبشر سیاسی لوگ ہیں وہ علاقہ میں آتے رہتے ہیں انھیں وہ کسی بھی وقت ٹارگٹ کر سکتا تھا ،میرے بھائی کے قتل کے بعد ناظم اپنی گرفتاری سے قبل سپاری کا کام بھی کرتا تھا اور اب بھی دو سال سے اس کا تعلق جرائم پیشہ افراد سے رہا ہے اس لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی تفتیش کا دائرہ کار بڑھانا چاہئے کیونکہ ملزم یہ واردات کسی ایماء پر بھی کرسکتا ہے،ملزم کی عمر 30سے 32سال کے درمیان ہے اور وہ زیادہ تر لاہور میں ہی رہتا ہے اور گائوں گائے بگائے آتا ہے ،لیکن اب اس نے آستین کا سانپ بن کر کارروائی کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں