’افغانستان میں ہمارا کوئی پسندیدہ فریق نہیں ہے‘

اسلام آباد(پبلک نیوز)‌وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ باربار واضح کر چکے ہیں کہ افغانستان میں ہمارا کوئی پسندیدہ فریق نہیں ہے، افغانستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورت حال پر تشویش ہے.

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے لیکن امن کا ضامن نہیں ہے۔ پاکستان افغانستان کا اہم ہمسایہ اور سٹیک ہولڈر ہے،پاکستان سمجھتا ہےافغان مسئلےکا حل مذاکرات میں ہے .

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان طالبان کو 2019 میں مزاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا، پاکستان نے دسمبر 2020 میں فریقین کے مابین مذاکرات کے لیے رولز آف بزنس کو حتمی شکل دینے مین اہم کردار ادا کیا، افغانستان میں امن نہیں ہوگا تو پاکستان پر اثر پڑے گا،پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے،افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں نے کرنا ہے. وزیر خارجہ نے کہا سیکیورٹی کونسل میں افغان نمائندے کے پاکستان مخالف بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہیں،سلامتی کونسل اجلاس میں افغان نمائندے نے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کی ،دوسروں کی ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر نہ ڈالی جائے،افغانستان کے بارے میں پاکستان کا موقف مستقل اور واضح ہے.

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے سیکیورٹی کونسل کی صدارت کے دوران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں ،وزیراعظم عمران خان کے افغان مسئلے پر موقف کی دنیا نے تائید کی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں