اسلامی یونیورسٹی میں طالبعلم سے زیادتی پر سینیٹ کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد (پبلک نیوز) اسلامی یونیورسٹی میں طالب علم کے ساتھ زیادتی کا معاملہ، قومی اسمبلی کی زیلی کمیٹی برائے تعلیم کا اجلاس، اجلاس میں وزارت تعلیم، ایف آئی اے اور پولیس کے نمائندوں کی شرکت، ایڈیشنل سیکرٹری ایجوکیشن کی کمیٹی کو بریفنگ۔

ایڈیشنل سیکرٹری ایجوکیشن کا کہنا تھا کہ بچے کو کیس نہ کرنے آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہم کوشش کر رہے ہیں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو۔ علی نواز اعوان نے استفسار کیا کہ آپ کو آئی بی، ایف آئی اے یا پولیس سے کوئی مسئلہ ہے تو بتائیں؟

ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی نور مقدم کیس میں بہترین تفتیش کو کمیٹی نے سراہا۔ رکن مہناز اکبر نے کہا کہ اسلام آباد کا ایلیٹ بچہ شرطیں لگاتا ہے۔ نور مقدم کیس کو بطور ٹیسٹ کیس لیں۔ اس کیس کو حل کریں گے تو سارے پاکستان کے بچے اور والدین سیدھے ہوجائیں گے۔

علی نواز اعوان نے استفسار کیا کہ ڈرگ کہاں سے آتی ہیں، کیسے استعمال ہوتی ہیں، تھیراپی ورکس جیسوں کو لائسنس کیسے ملتے ہیں۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ اس کیس پر روزانہ 3 سے 4 گھنٹے تک روزانہ بیٹھا جاتا ہے۔ پولیس کی جانب سے نور مقدم کیس کی تفتیش میں کوئی کسر نہیں رہے گی۔

ایس ایس پی عطاء الرحمٰن نے بتایا کہ ملزمان کی ہائی کورٹ سے ضمانت کینسل ہوتے ہی ہم نے گرفتاری کی۔ علی نواز اعوان نے کہا کہ ایسی یونیورسٹی جس کا نام ہی اسلام سے شروع ہورہا اس میں بھی بچہ پڑھانے سے ڈر لگتا ہے۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ بچے نے خود کہا وہ اپنا میڈیکل نہیں کروانا چاہتا۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی تعلیم نے اسلامی یونیورسٹی میں طالب علم کو قتل کرنے اور ذیاتی کے معاملہ پر سب کمیٹی بنا دی۔ سب کمیٹی دونوں معاملات پر تفصیلی رپورٹ بنا کر مرکزی کمیٹی کودے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں