29

لاہورکے چڑیا گھرمیں نایاب سفید شیر کے 2 بچوں کی موت کورونا وائرس سے ہوئی

ویب ڈیسک :چٰڑ یا گھر کے حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ ماہ لاہور کے چڑیا گھر میں سفید شیر کے 2 بچوں کی موت کورونا وائرس سے ہوئی تھی، دونوں بچوں کی عمریں 11 ہفتے کی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق سفید شیر کے بچوں کی موت 30 جنوری کو ہوئی تھی جبکہ اپنی موت سے چار روز قبل سے زیر علاج تھے۔ماہرین کا خیال تھا کہ انہیں پر فلین پینیلو کو پینیا وائرس کا حملہ ہوا ہے جو پاکستان میں عام ہے اور جانور کے مدافعتی نظام کو نشانہ بناتا ہے۔

پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا کہ مرنے والے بچوں کے پھیپھڑوں کو بری طرح نقصان پہنچا تھا اور وہ شدید انفیکشن میں مبتلا تھے۔اس کے بارے میں پیتھالوجسٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سفید شیر کے بچوں کی موت کووڈ 19 سے ہوئی ہے۔

اگرچہ کورونا وائرس کے لیے پی سی آر کا کوئی ٹیسٹ نہیں لیا گیا تاہم چڑیا گھر کی ڈپٹی ڈائریکٹر کرن سلیم نے بتایا کہ پورے ملک کی طرح چڑیا گھربھی کورونا وائرس کا شکار تھا ۔

انہوں نے بتایا کہ ‘سفید شیر کے بچوں کی موت کے بعد چڑیا گھر انتظامیہ نے تمام عہدیداروں کے ٹیسٹ کروایا ہے اور عملے کے 6 افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے’۔

کرن سلیم نےمزید بتایا کہ ‘کورونا کا شکار عملے میں ایک شخص وہ بھی شامل تھا جس نے ان بچوں کی دیکھ بحال کی تھی’ ۔

دوسری جانب جانوروں کے حقوق کی تنظیم جسٹس برائے کیکی (جے ایف کے) کی بانی نے کہا کہ آخری سفید شیر کے 2 بچوں کی لاہور کے چڑیا گھر میں موت ایک مرتبہ پھر انتظامیہ اور حکام کی غفلت ظاہر کرگئی۔انہوں نے کہا کہ سفید رنگ کے شیر بہت نایاب ہوتے ہیں اور انہیں صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ایک مخصوص جگہ اور ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 ایک نیا وائرس ہے اور دنیا بھر میں انسانوں کے لیے پالیسیاں بنائی جارہی ہیں اور اس لیے متعلقہ حکام اور دیگر افراد کو پالتو جانوروں یا چڑیا گھروں اور ہر جگہ پر موجود جانوروں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں