دبئی جانیوالے مسافروں کی پریشانی کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی

دبئی جانے والے مسافروں کی پریشانی اور اذیت کم ہونے کے بجائے بڑھنے کے امکانات، ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی خاقان مرتضیٰ کے مطابق اس وقت ملک میں ایسی کوئی لیبارٹری نہیں جس کے پاس اتنی بڑی تعداد میں ریپڈ ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہماری نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کی ڈیمانڈ ہے، اس لئے ہم نے ان پر زور دیا ہے کہ گلف ائیر لائنز خود ہی لیبارٹریز سلیکٹ کر لیں، آج صبح چند لیبارٹریز کے نام فائنل ہوئے ہیں۔ ان لیبارٹریز کو بھی جدید مشیینں منگوانے میں آٹھ سے دس روز لگ جائیں گے۔

ڈی جی سول ایوی ایشن نے بھی دبئی جانے والے مسافروں کے ریپیڈ ٹیسٹ کے معاملہ میں ہاتھ کھڑے کر دئیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسی کوئی لیبارٹری ہے ہی نہیں جس کے پاس اتنی بڑی تعداد میں فلائیٹ سے 4 گھنٹے قبل مسافروں کے ریپیڈ ٹیسٹ کی سہولت ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس معاملہ پر دبئی حکام کو کہا ہے کہ ائیر لائنز خود اپنی مرضی سے لیبارٹریز شارٹ لسٹ کر کے دے جس سے وہ مطمئن ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ اج صبح لسٹ ملی ہے جس کے مطابق کراچی، لاہور، اسلام اباد اور پشاور کے لیے مخصوص لیبارٹریز کے نام دے دئیے گئے ہیں۔

ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی خاقان مرتضی نے بتایا کہ ان لیبارٹریرز کو جدید مشیینں منگوانے میں مزید آٹھ سے دس روز لگ سکتے ہیں۔ سیاحت کے فروغ کے لیے نجی آپریٹرز کو ٹی پی آر آئی لائسنس جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دو آپریٹرز نارتھ ائیر اور ال ویر ائیر کو لائسنس کا اجرا کر دیا گیا ہے۔

خاقان مرتضیٰ نے بتایا کہ اسکردو ائیر پورٹ کو بین الاقوامی ہوائی اڈے کی حیثیت دیئے جانے کا منصوبہ ہے جس کے لیے ائیر پورٹ کی توسیع شروع کردی گئی ہے جبکہ چترال اور گلگت میں نئے ہوائی اڈوں کی تعمیر کے لیے غیر ملکی کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں