مندر حملہ کیس؛ملزمان کی ایک ہفتے میں شناخت کا حکم

اسلام‌آباد(پبلک نیوز) سپریم کورٹ میں رحیم یار خان مندر حملہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے کچے کا علاقہ ڈاکوئوں سے کلیئر کرانے کا حکم دیدیا .

کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ڈاکوئوں سے کلیئر کروا کر کچے میں امن بحال کیا جائے، پنجاب حکومت اور آئی جی کچے میں سکیورٹی یقینی بنائیں، پاکستان بنے اتنا عرصہ ہوگیا ہم ڈاکوئوں سے جان نہیں چھڑوا سکے ، اس دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ کچے کا علاقہ سندھ کیساتھ بھی لگتا ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہر طرف سے ملکر کارروائی کریں تو کیسے نہیں کام ہوتا.

سپریم کورٹ نے یہ حکم رحیم یار خان مندر حملہ ازخودنوٹس میں جاری کیا، سپریم کورٹ نے مندر پر حملے کے ملزمان کی ایک ہفتے میں شناخت کا حکم بھی دیا، عدالت کا کہنا تھا کہ ملزمان کی شناخت کے بعد گرفتار بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے،ملزمان کی شناخت کے بعد ٹرائل کورٹ میں چالان پیش کیا جائے، ٹرائل کورٹ بغیر کسی التواء کے چار ماہ میں فیصلہ یقینی بنائے. عدالت کا کہنا تھا کہ آگاہ کیا گیا کہ مندر کے اندرونی حصے کی بحالی مکمل ہوچکی، مندر کے بیرونی حصے کو ایک ماہ میں مکمل کیا جائے، عدالت نے گائوں بھونگ میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی برقرار رکھنے کی ہدایت کر دی.

ایڈیشنل ایڈووکیٹ پنجاب کا کہنا تھا کہ مندر پر حملہ کرنے والے پچانوے افراد کو گرفتار کیا ہے۔گرفتار افراد کے چہرہ شناسی کے لیے نادرا سے معاونت کی جارہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا میڈیا پر چلنے والی فوٹیج میں سب کے چہرے واضح تھےپہچانے جاسکتے ہیں۔ آپ نے نادرا کو خط لکھ دی ہوگا اور نادرا کی مرضی بے شک دوسال بعد جواب دے۔ پولیس کا کام خط لکھنا نہیں خط بابو لکھتے ہیں پولیس نے کارروائی کرنی ہوتی ہے۔ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب نے کہا نادرا فوری تعاون کررہاہے، عدالت میں پیش کرنے کے لیے متعلقہ ثبوت نادرا کے ذریعے حاصل کیے جارہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر متعلقہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو بھی طلب کرلیا ہے، ہندو بچے کو گرفتار کرکے تھانے میں بند کرنے والے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ متعلقہ ایس ایچ او کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا۔ صرف محکمانہ کارروائی کی کافی نہیں بلکہ اس کو گرفتار ہونا چاہیے۔ عدالت نے کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔

کیس کی سماعت کے بعد رامیش کمار نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا ٹاک میں کہا کہ مندر اندر سے بحال ہوگیا ہے باہر کام ہوریا ہے۔ایک ماہ میں کام مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ پیسے ریکور کراکے مندر کی تزئین و آرائش کے لیے رکھے جائیںاس سے ٹیری مندر کا بھی فایدہ ہوگا وہ بھی ابھی تک عدالتی حکم کے باوجود نہیں ملے۔محکمہ متروکہ وقف املاک نے بھی پیسے جاری نہیں کیےبھونگ مندر واقعے پر پچانوے لوگ گرفتار ہوئے۔ چیف جسٹس کو کہا اس بات ک خیال رکھا جاۓ کہ کوئی بلاقصور نہ پکڑا جائے۔ ورنہ حالات مزید سنگین ہونگے۔ پاکستان نے بھارت کے لیے ایک انتہائی اہم مثال قائم کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ہوتا تو پوری ریاست فوری متحرک ہوکر اقلیتوں کا تحفظ کرتی ہے بھارت کو پاکستان سے سیکھنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں