15 سالہ لڑکی باپ کا ہاتھ بٹانے کیلئے پینٹر بن گئی

اولاد اللہ پاک کی منشا ہے جس کو چاہے بیٹا دے اور جس کو چاہے بیٹی، کسی کو محروم کر دے اور کسی کو دونوں سے نواز دے۔ اولاد اللہ پاک کی ان گنت نعمتوں میں سے بہت خاص نعمت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بیٹاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے رنگ ساز خالد محمود کی باہمت بیٹی ماریہ نے اس بات کو سچ ثابت کرتے ہوئے معاشرے کے لیے ایک مثال قائم کر دی۔

رنگ سازی کے پیشے سے وابستہ خالد محمود کا کوئی بیٹا نہیں ہے تو ماریہ ہی اپنے والد کا بازو بن گئی، ماریہ چار بہنوں میں سب سے بڑی ہیں اور وہ اپنے والد کے ساتھ گھروں میں پینٹ اور سفیدیاں کرتی ہیں۔ ان کے والد اور والدہ دونوں بیمار ہیں۔ والد کی بیماری کو دیکھتے ہوئے ماریہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ کام پر جائیں گی۔ اب ماریہ گھروں میں ڈسٹمپر، پینٹ اور رنگ روغن کرتی ہیں، وہ اپنے گھر کی کفالت کے لیے 18 گھنٹے بھی کام کرتی ہیں۔ ماریہ 9 سال کی عمر سے اس کام میں داخل ہوئی اور اب اسکی عمر 19 سال ہے، وہ اب ایک ماہر کاریگر بن چکی ہیں۔ ماریہ عام رنگ روغن کے ساتھ فینسی کام بھی کر لیتی ہیں۔ گھر کا مکمل خرچہ اٹھانے کی ذمہ داری بھی کم عمر ماریہ کے کاندھوں پر ہے۔

پبلک نیوز سے بات کرتے ہوئے ماریہ کا کہنا تھا کہ بہت اچھا لگتا ہے کہ میں اپنے بابا کے ساتھ انکا کام کراتی ہوں، میں اپنے پاپا کا بازو بنی ہوئی ہوں ، میرے پاپا کو بھی اس بات پر فخر ہے کہ میں انکی بیٹی نہیں ہوں بلکہ بیٹا ہوں ، انہوں نے مجھے کبھی بیٹی سمجھا ہی نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ میری بہنیں بھی مجھے اپنا بھائی مانتی ہیں اور پورے خاندان کو مجھ پر فخر ہے، اب تو یہ حال ہے کہ میں بھی خود کو لڑکا سمجھتی ہوں ، معاشرے کے لوگ باتیں کرتے ہیں لیکن ہمارے خاندان کی مجبوری نہیں سمجھتے ، جو لوگ مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتے، انہیں باتیں بھی بنانے کا کوئی حق نہیں ہے، میں یہاں چوریاں نہیں کر رہی بلکہ حلال کی روزی کما رہی ہوں، نہ ہی میں کوئی بھیک مانگ رہی ہوں ، اپنی محنت کا کماتی ہوں اور کھاتی ہوں۔ انہوں نے لوگوں کو اپنا پیغام دیتے ہوئے کہ بیٹیوں کو بوجھ نہ سمجھا جائے ،ان کو اعتماد دیا جائے تو وہ آپ کا سر فخر سے بلند کر سکتی ہیں۔

باہمت لڑکی کے والد خالد کا کہنا تھا کہ میری بیٹی میرے ساتھ مل کر کام کررہی ہے اس سے مجھے بہت مدد ملتی ہے، اللہ پاک ہر ماں باپ کو ایسی بیٹی دے ، یہ ہمارا بہت خیال رکھتی ہے، مجھے اس نے کبھی بیٹے کی کمی محسوس نہیں ہونے دی، مجھے ماریہ پر فخر ہے، اس نے کبھی کوئی فرمائش نہیں کی بلکہ یہ ہماری تمام تر ذمہ داریاں اٹھاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں