ہزاروں امریکی فوجی اتوار کو کابل پہنچ جائیں گے

کابل ( ویب ڈیسک ) امریکہ ایک طرف کہہ رہا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کو طالبان سے فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے جبکہ دوسری طرف تین ہزار امریکی فوجی افغانستان روانہ کئے جا رہے ہیں جن کو یہ مشن دیا گیا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت میں مختلف مقاصد کیلئے موجود امریکی شہریوں کو بحفاظت وطن واپس لائیں۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اس وقت ہزاروں امریکی شہریوں اور اتحادیوں موجود ہیں ، امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کو ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ کابل میں موجود امریکی سفارتی عملے کو تمام حساس سامان تلف کرنے کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں ، کابل پر ابھی طالبان کے قبضے کا کوئی امکان نہیں ہے لیکن افغانستان سے امریکی شہریوں اور اتحادیوں کے مکمل انخلا کیلئے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اس وقت کابل میں ہزاروں امریکی شہری اور اتحادی موجود ہیں جن کو وہاں سے نکالنےتین ہزار امریکی فوجی اتوار کے روز کابل کے ائیر پورٹ پر پہنچ جائیں گے ، طالبان کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ کابل کے اطراف کے علاقوں پر قبضے کے ذریعے اسے تنہا کر رہے ہیں، طالبان ماضی میں بھی ایسی حکمت عملی استعمال کرتے رہے ہیں، اس طرح وہ خون بہائے بغیر ہی مخالفین کو شکست تسلیم کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں