اشرف غنی کی مشکوک بیگز کیساتھ فرار کی کوشش کا انکشاف

کابل(ویب ڈیسک) سابق افغان صدر اشرف غنی کی فرار کے وقت ویڈیو منظر عام پر آ گئی جس میں ان کے ساتھ موجود شخص کو مشکوک بیگز کے ہمراہ فرار کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے تاہم یہ کوشش ناکام ہو گئی.

واضح رہے کہ گزشتہ روز طالبان کی جانب سے کابل پر قبضہ کر لیا گیا جس کے بعد اشرف غنی استعفیٰ دیکر فرار ہو گئے، اشرف غنی فرار ہوتے ہوئے کس پر ہاتھ صاف کرنا چاہتے تھے؟ سابق افغان صدر بھاگتے ہوئے کیا اہم ترین شے ساتھ لے جانا چاہتے تھے؟ سابق افغان صدر کی کابل سے بھاگتے ہوئے ویڈیو میں اہم انکشاف سامنے آ گیا۔

اشرف غنی کے طیارے کی سیڑھیاں چڑھتے ہی 2 وزنی بیگ اٹھائے افسر بھی پیچھے آیا۔ بیگز والے افغان افسر کو ایک سنیئر اہلکار نے عقب سے پکارا اور نیچے اتار لیا۔بھاری بھرکم بیگز میں رقم تھی یا اہم دستاویزات؟ سوال اٹھنے لگے ہیں. روسی سفارتخانے کے ترجمان نکیتا اشچینکو کے مطابق اشرف غنی جگہ نہ ہونے کے باعث کچھ کیش ساتھ نہ لے جا سکے،4 گاڑیاں کیش سے لدی تھیں،1 ہیلی کاپٹر میں بھی نقدی ٹھونسی گئی،جگہ نہ ہونے کے باعث کیش بیگز ٹارمک پر ہے چھوڑ گئے.


دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اشرف غنی لاپتہ ہو گئے ہیں .وہ اس وقت کہاں ہیں کچھ معلوم نہیں، ازبکستان اور تاجکستان میں واقع افغان سفارتخانوں کے مطابق اشرف غنی کی ان ممالک میں آمد کی کوئی اطلاع نہیں.

سابق افغان صدر اشرف غنی کی ملک سے روانگی نے بہت سے لوگوں کو غصے اور الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔ اتوار کے آخر میں یہ اعلان کیا گیا کہ اشرف غنی اپنی کابینہ کے کئی ارکان کے ساتھ ملک چھوڑ چکے ہیں۔ افغانستان کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ کی جانب سے انکے ملک چھوڑنے کی تصدیق کی گئی ، ایک بیان میں انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ سابق صدراشرف غنی کامحاسبہ کرےگا،اشرف غنی عوام کوبرےحال میں چھوڑکرچلےگئے.

طالبان کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق اشرف غنی کے ملک چھوڑنے پر تنقید کی گئی ہے ، اور انکے ملک چھوڑنے کو بزدلانہ اقدام قرار دیا گیا ہے. مغربی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اشرف غنی طالبان کے کابل میں داخل ہونے سے پہلے ہی افغانستان سے فرار ہو کر تاجکستان پہنچ چکے تھے اور اب ان کی طرف سے استعفیٰ بھی دیدیا گیا ہے تاہم کابل میں متعین ازبک سفارت خانے نے بھی اشرف غنی کی تاشقند میں موجودگی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں