”جامع مذاکرات ہی افغان مسئلہ کا حل ہیں“

اسلام آباد (پبلک نیوز) پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغان وفد کی دفتر خارجہ آمد، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان اور افغانستان میں پاکستانی سفیر منصور احمد خان بھی موجود تھے۔

تفصیلات کے مطابق افغان اولسی جرگہ کے اسپیکر میر رحمان رحمانی کی قیادت میں وفد وزارت خارجہ پہنچا۔ افغان رہنما وفد نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔ دوران ملاقات، افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے تبادلہء خیال کیا گیا۔

مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں افغان رہنما وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ ضروری ہے کہ ہم مل کر افغانستان اور خطے کی بہتری کے لیے لائحہ عمل وضع کریں۔ حتمی مقصد پرامن، متحد، جمہوری، مستحکم اور خوشحال افغانستان ہے۔ قوی امید ہے کہ ہم مل کر امن اور مفاہمت کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عالمی برادری واضح طور پر افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل کی حامی ہے۔ افغان قیادت کے لیے لازم ہے کہ وہ وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل کی راہ ہموار کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جامع مذاکرات، افغان مسئلہ کے پرامن سیاسی حل کا واحد راستہ ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان میں بدامنی ہو اور اندرونی انتشار سے ہمسایہ ممالک متاثر ہوں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امن مخالف ان عناصر پر بھی کڑی نظر رکھنا ہو گی۔ امن دشمن پاکستان کے تسلیم شدہ مصالحانہ کردار کو غلط رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ افغانستان کی حتمی منزل کے حصول میں افغان معاشرے کا ہر طبقہ یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ تمام افغان رہنما، وسیع تر قومی مفاد میں مل کر کاوشیں بروئے کار لائیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا تعمیری اور مصالحانہ کردار ادا کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ عالمی برادری افغانستان کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے تعاون اور اقتصادی معاونت کی فراہمی کے لیے آگے بڑھے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں