” مجھے بے لباس کیا اور گھنٹوں مجھ سے کھیلتے رہے“

لاہور ( ویب ڈیسک ) مینار پاکستان پر جشن آزادی کے موقع پر ہزاروں نوجوانوں کے ہاتھوں تشدد اور ہراسانی کا شکار ہونے والی لڑکی نے میڈیا پر آکر پاکستانیوں کے ضمیر جھنجھوڑ دئیے۔ متاثرہ لڑکی عائشہ کا کہنا ہے کہ میں نے چودہ اگست کیلئے نیا لباس سلوایا تھا مگر میرا سب کچھ اتار لیا گیا۔ کوئی میرے کپڑے اتارتا تھا اور اگر کوئی مجھے کپڑے واپس کرتا تو اس سے میرے کپڑے چھین لئے جاتے۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پاکستانی نوجوانوں کی شر مناک ویڈیوز جن میں جشن آزادی کے موقع پر مینار پاکستان پر ایک ٹک ٹاکر لڑکی کو بے لباس کر کے اس پر تشدد اور ہراسانی واضح طور پر نظر آرہی ہے۔ متاثرہ لڑکی عائشہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ کافی زیادہ لڑکے تھے وہ ایک دم میرے اوپر آئے، انہوں نے سیلفی لینے کا کہا ، سیلفی لیتے لیتے وہ میرے اوپر گرنے لگے اور دباؤ ڈالنے لگے، میرے پورے گروپ کو وہ جنگلے کے بالکل پاس لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ مینار کا جنگلہ بند تھا، جنگلے کے اندر سکیورٹی گارڈ بیٹھا تھا ، اس نے مجھے جنگلے کے اندر داخل ہونے دیا، میں جیسے ہی جنگلے کے اندر گئی تو ساری عوام جنگلے کے باہر تھی، میں نے سوچا کہ میں دوسرے دروازے سے باہر نکل جاؤں گی، مگر وہ لوگ جنگلے اور تاریں توڑ کر اندر آگئے، انہوں نے مجھے گھیر لیا ، میرے پاس موقع تھا کہ وہاں ایک پانی کا تالاب بھی تھا ، میری ٹیم نے کہا کہ میں اس میں کود جاؤں تو میں محفوظ ہو جاؤں گی، وہ کافی گہرا تھا، میں نے 15 پر کال بھی کردی، مگر کوئی رسپانس نہ ملا۔

عائشہ نے کہا کہ تقریبا ساڑھے چھ بجے سے 9 بجے تو میں اس ہجوم کے کنٹرول میں رہی اور وہ مجھ پر تشدد کرتے رہے، لوگوں نے میرے بال کھینچے، وہ کہہ رہے تھے کہ اٹھو ، یہ ڈرامہ کر رہی ہے، ایک عورت اگر اپنے پاکستان، اپنے شہر میں محفوظ نہیں تو وہ دنیا کے کسی کونے میں محفوظ نہیں ہے، کسی کا یہ حق نہیں بنتا کہ وہ مجھے مکمل طور پر ننگا کر دیتا، جب ایک عورت کے ساتھ سرعام یہ کیا جاتا ہے تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا۔

مظلوم لڑکی نے کہا کہ لوگ مجھ پر تشدد کر رہے تھے، میرے ساتھ کھیل رہے تھے، میرا جسم کا کوئی ایسا حصہ نہیں جہاں پر نشان نہیں ہیں، میں نے کوئی فحش کپڑے نہیں پہنے تھے، میں نے آج تک کوئی فحش ویڈیو نہیں بنائی، میں نے چودہ اگست کیلئے نیا لباس سلوایا تھا مگر میرا سب کچھ اتار لیا گیا۔ کوئی میرے کپڑے اتارتا تھا اور اگر کوئی مجھے کپڑے واپس کرتا تو اس سے میرے کپڑے چھین لئے جاتے۔

عائشہ نے مزید بتایا کہ ایک وقت آیا میں بالکل ختم ہو گئی، ایک بچے نے مجھے پانی پلانے کی کوشش کی اور ساتھ چیخنے لگا کہ تم لوگ کیا کر رہے ہو، وہ بالکل ختم ہو گئی ہے مگر کوئی میری ٹانگیں اٹھا رہا تھا، کوئی میرے بازو کھینچ رہا تھا، میرے ساتھ تو جو ہونا تھا ہو گیا مگر کوئی ایسا قانون بنانا چاہئے کہ ایسا اور کسی کے ساتھ نہ ہو، یہاں چھوٹی چھوٹی بچیوں سے زیادتی کی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں