لاہور ہائی کورٹ؛ قتل کے مقدمے میں سزا پانے والا ملزم رہا

لاہور(پبلک نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سز اپانے والے ملزم کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا، عدالت نے محمد عمر کی عمرقید کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئےملزم کو بری کرنے کا حکم دے دیا.

تفصیلات کے مطابق جسٹس سہیل ناصر نے 15صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا. ملزم محمد عمر پر 2012میں اپنے سسر کو قتل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا . فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے ملزمان سے اسلحہ کی ریکوری پر یقین نہیں کیا لیکن میڈیکل رپورٹ کے بنیاد پر سزا سنادی، طے شدہ قانون ہے کہ کوئی بھی ملزم اسوقت تک مجرم نہیں ہوسکتا جب تک جرم ثابت نہ ہوجائے ،گواہ کے مطابق ملزمان سے فرار ہوتے ہوئے دوبارہ فائرنگ کی لیکن انسپکشن کے دوران ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا، یہ بھی طے شدہ قانون ہے کہ جرم ثابت کرنا پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے اور پراسیکیوشن اس سے بھاگ نہیں سکتی ، گواہ کے مطابق ملزمان موٹر سائیکل پر آئے لیکن جاتے وقت اپنی موٹر سائیکل چھوڑ کے بھاگے،پراسیکیوشن کی اس کہانی کا کوئی سر پیر نہیں ہے.

عدالت نے قرار دیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ملزمان موٹر سائیکل پر آئیں اور اسلحہ موجود ہونے کے باوجود موٹر سائیکل چھوڑ کر بھاگیں ،پراسیکیوشن پر اپنا کیس ثا بت کرنے میں ناکام رہی ،ملزم کی اپیل منظور کی جاتی ہے اور جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا جاتاہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں