’نیٹو فورسز پاکستان سے اپنی شکست کا بدلہ لیں گی‘

کراچی (پبلک نیوز) مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ لمبا چلے گا،افغانستان میں49کے قریب فورسزکوشکست ہوئی، حالات بہتر ہونے پر نیٹو فورسز اپنی شکست کا بدلہ لیں گی، پاکستان کا نام سب سے پہلے بدلہ لینے والوں کی لسٹ میں شامل ہو گا.

احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس ریجن کے حالات تبدیل ہورہے ہیں، افغانستان کے حالات کی وجہ سے یہاں سے تبدیلی آرہی ہے، آج کے حالات بہت زیادہ منفرد ہیں، پاکستان کے لیے اس وقت بہت سے چیلنج سامنے آگئے ہیں، ہم سب کو پتہ ہے کہ افغانستان میں نیٹو فورسز کو شکست ہوئی ہے، جیسے ہی معاملات بہتر ہوں گے، یہ تمام لوگ اپنی شکست کا بدلہ لیں گے، پچیس سال پہلے روس کو شکست ہوئی تھی.

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا نام سب سے پہلے آئے گا بدلہ لینے والوں کی لسٹ میں ، آج طالبان کو جو آج فتح ملی ہے اس میں پاکستان کا رول تصور کیا جا رہا ہے، بھارت کو اپنے سفارت خانوں کو افغانستان میں بند کرنا پڑ رہا ہے، پوری دنیا میں افغانستان کے اندر بہتر حکومت بنانے کی باتیں ہورہی ہیں، آج پاکستان کے حالات بہت زیادہ تبدیل ہورہے ہیں، پاکستان کو اب کسی بھی ایڈوینچر کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے.

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں انہیں بہتری کا سوچنا چاہیے، یہاں کوئی فوج نہیں اتارے گا، یہاں لسانیت اور دیگر مسائل ہیں، پیپلزپارٹی سے کوئی امید نہیں وہ نسلی تعصب کی بنیادپرحکومت کررہی ہے،دشمنوں نے ان تمام چیزوں کا استعمال کیا تھا،اب بھی ان تمام باتوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے،پیپلز پارٹی نہ ہمیں نوکری دے رہی ہے نہ کوئی سہولت، صنعتوں کا بھی پانی بند کردیا گیا ہے، کورونا کا بہانہ بنا کر لوگوں کی دکانوں کو بھی بند کردیا گیا ہے، اگر حکمران ان تمام مسائل حل نہیں کریں گے تو مشکلات مزید بڑھیں گی.

ان کا کہنا تھا کہ جعلی ڈومیسائل بنا کر لوگوں کو نوکریاں دی جارہی ہیں، اگر دشمن چاہے تو یہاں بہت کچھ کیا جاسکتا ہے، مجھے تو پیپلز پارٹی سے کوئی بھی امید نظر نہیں آتی، اس صوبے کو پیپلز پارٹی کو ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے، یہاں کے لوگ کس حکومت کو پکاریں گے، وفاق اس لئیے کوئی قدم نہیں اٹھاتا کہ انکی حکومت گر جائے گی، اگر لوگوں کو ریلیف نہیں دیں گے تو مسائل بڑھ جائیں گے، اندر سے نشانہ نہ بننے کے لیے کام کرنے ہوں گے، افغانستان میں امن ہمارے حق میں بہتر ہے.

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے ایک ہفتے مزید اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے، پہلے کون سے ایس او پیز پر یہاں عمل درآمد ہورہا ہے، جو بچہ اسکول میں پڑھ رہا ہے اسکے گھر والوں کو ضرور ویکسین لگانے کی ضرورت ہے، اسکولوں میں باآسانی ایس او پیز پر عمل کروایا جاسکتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں