چنگ چی رکشے میں بیٹھی خاتون کو ہراساں کرنے والے کیخلاف مقدمہ درج

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور میں چنگ چی رکشے میں بیٹھی خاتون سے اوباش نوجوانوں کی بدتمیزی کے واقعے کا مقدمہ تھانہ لاری اڈا میں درج کر لیا گیا ہے۔

جشن آزادی کے موقع پر ٹاکر ٹاکر عائشہ اکرام کے ساتھ مینار پاکستان کے مقام پر ہراسانی کے واقعہ کے بعد اسی روز کی ایک اور ویڈیوز بھی سامنے آگئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مینار پاکستان کے قریب ہی ایک سڑک پر چنگ چی رکشہ میں جانیوالی دو لڑکیوں کے ساتھ ایک اوباش نوجوان نے نازیبا حرکت کی جبکہ قریب موجود ہجوم کی طرف سے اس عمل کی تعریف کی گئی ۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مینار پاکستان کے قریب سڑک پر دو لڑکیاں چنگ چی رکشہ کی پچھلی نشست پر بیٹھی ہوئی ہیں جبکہ اس کے گرد اوباش نوجوان موٹر سائیکل پر فقرے کسنے میں مصروف ہیں، اسی دوران ایک اوباش نوجوان اپنی موٹر سائیکل سے اتر کر چنگ چی میں بیٹھی لڑکی کو ہراساں کرتے ہوئے نازیبا حرکت کرتا نظر آرہا ہے۔واقعہ کا مقدمہ تھانہ لاری اڈا کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے.

اس متعلق ڈاکٹر شہباز گل کی جانب سے ٹوئٹ بھی کیا گیا جس میں انکا کہنا تھا کہ کل منظر عام آنے والی وڈیو جس میں رکشہ پر سوار ایک خاتون کی بے حرمتی کی گئی اس پر FIR درج ہو گئی ہے۔اوباش گھٹیا ملزم جلد پولیس کی گرفت میں ہوں گے۔ ایک اور وڈیو جس میں موٹر سائیکل پر بیٹھی خاتون سے بدتمیزی ہوئی اس پر تفتیش ہو رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے واقعات معاشرے کی افسوسناک حقیقت ہیں۔صرف پولیس یا عدالت ہی نہیں سکول سے لےکر سیاست اورمیڈیا سے لےکر ممبر تک،ہم سب کو اس لعنت کے خلاف جہاد کرنا ہوگا.

یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر اب یہ بحث جاری ہے کہ مانا عائشہ اکرم نے مینار پاکستان پر اپنے فینز کو بلا کر سیلفی بنائیں اور اسی وجہ سے اس کو ہراساں کیا گیا تو اس لڑکی نے چنگ چی میں بیٹھے ہوئے کس کو ہراساں کرنے کی دعوت دی تھی؟۔ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاشرے میں بگاڑ موجود ہے جس کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں