8سال سے التوا کا شکار ریڈ لائن بس منصوبہ شروعات کے قریب پہنچ گیا

کراچی (پبلک نیوز) کراچی میں 15سال بعد پبلک ٹرانسپورٹ کاسب سے بڑامنصوبہ شورع ہونے کو ہے۔ وزیرٹرانسپورٹ سندھ اویس قادرشاہ کی موجودگی میں ریڈلاٸن بس منصوبہ کے معاہدہ پر دستخط کیے گٸے۔ اویس قادرشاہ کا کہنا ہے کہ ریڈلاٸن بس منصوبہ میں سندھ حکومت کا شئیر 75ملین ڈالر ہو گا۔

پبلک ٹرانسپورٹ کے سب سے بڑے ریڈ لائن بس منصوبے کے لیے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں مہمان وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ شریک ہوٸے۔ ریڈ لائن بی آر ٹی کے تعمیراتی کام کے معاہدے پر ٹرانس کراچی اورکنسٹرکشن فرم کےنمائندے نےدستخط کیے۔

تقریب میں بتایا گیا کہ کراچی کے ریڈ لائن بس منصوبہ کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر انٹرنیشنل ڈونرز نے فنڈنگ کی ہے۔ کراچی ریڈ لائن ماس ٹرانزٹ بس پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد منصوبہ ہوگا۔

ریڈ لائن بس منصوبہ گزشتہ 8سال سے زیر التوا تھا 2020میں محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ کی کوششوں سے ایشیائی ترقیاتی بینک نے قرض کی فراہمی کا معاہدہ کیا۔

وزیرٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ کا کہنا تھا کہ ماڈل کالونی براستہ ایئرپورٹ، صفورہ چورنگی، موسمیات، یونیورسٹی روڈ سے نمائش چورنگی تک ریڈ لائن میٹرو چلے گی۔ 26کلومیٹر طویل ریڈ لائن بی آر ٹی میں 24اسٹیشنز ہوں گے اور 213 بسیں چلیں گی۔

انھوں نے بتایا کہ گرین کلائمٹ فنڈ نے ریڈ لائن بس منصوبے کے لیے 11ملین ڈالر کی گرانٹ دی ہے۔ ریڈ لائن میٹرو بس کے لیئے بھینس کے گوبر سے ایندھن بنایاجائے گا۔ بھینس کالونی کراچی میں بائیو گیس پلانٹ لگایا جائے گا جس سے یومیہ 20ہزار کلو گیس کی پیداوار ہوگی۔

وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ ریڈ لائن بس منصوبہ میں سندھ حکومت کا شیئر 75ملین ڈالر ہے۔ کراچی میں پہلی مرتبہ طویل ترین سائیکلنگ ٹریک بنایا جائے گا۔ ریڈ لائن، بی آرٹی کے روٹ کے ساتھ سائیکلنگ ٹریک ہو گا، پاکستان میں پہلی مرتبہ تھرڈ جنریشن بی آرٹی سسٹم ریڈ لائن بی آرٹی میں استعمال ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں