’پی ڈی ایم جلسے کرے، ہم سب اپوزیشن میں ہیں‘

کراچی (پبلک نیوز) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی مرضی جس کےخلاف جلسے کرے، ہم سب اپوزیشن میں ہیں۔ پیپلزپارٹی نے حکومت کو گرانے کا عملی راستہ دکھایا تھا۔ مسائل سے انکار نہیں مگر حل بھی کر رہے ہیں۔ عوام پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو پہچان چکے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج وزیر اعلیٰ سندھ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کے ساتھ دورہ کراچی کیا ہے۔ یہ شہر ایم کیو ایم کے کنٹرول میں تھا۔ اب اس شہر کو آزادی مل گئی ہے۔ شہر سے کراچی اٹھا رہے ہیں۔ آج میں نے دیکھا شہر میں کچرہ ہے اسے اٹھانے کی ہدایت کی۔

انھوں نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ کو دورہ کیا وہاں بحالی کا جائزہ لیا۔ کراچی کے عوام سے اپیل ہے وہ ہمارا ساتھ دے۔ شہر کی صورتحال کو بہتری کی طرف لے جارہے ہیں۔ ناصر شاہ اور مرتضیٰ وہاب نے محنت کی ہے۔ آج شہر وہ نہین ہے جو پہلے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 16 ہزار افراد کو بیروزگار کیا گیا یے۔ عدالت نے جن لوگوں کو بیروزگار کیا ہے۔ ان کو نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں بیروزگار کیاگیا تھا۔ ان کو ہم نے اپنی حکومت میں 2010 مین پارلیمنٹ سے قانون پاس کرکے بحال کیا تھا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اسٹیل مل ایف آئی اے سمیت دیگر محکموں سے ملازمین کو فارغ کیاگیا ہے۔ انہوں نے ایک کروڑ نوکری دینا کا کہا تھا۔ لیکن یہ روزگار چھین رہے ہیں۔ ہماری منزل عوام کے لیے سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ ہمارے 16000خاندانوں کو بیروزگار کیا جا رہا ہے۔

پارٹی چیئرمین نے کہا کہ ہماری امیدوں کے مطابق عدالتی فیصلہ نہیں آیا۔ سندھ حکومت عوام کوروزگاردلانے کے لیے اقدامات کرے۔ ہم وفاق کے تعاون کے بغیرلوگوں کی خدمت کریں۔ ایف آئی اے سمیت حساس اداوں کے ملازمین کو نکالا جا رہا ہے۔

پی ڈی ایم کے کراچی جلسہ پر کہا کہ پی ڈی ایم کو کراچی میں ویلکم کرتےہیں۔ سندھ میں واحد بلدیاتی نظام نے اپنی مدت مکمل کی۔ میں پی ڈی ایم پر تنقید نہیں کروں گا۔ ہم بلدیاتی الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ ایم کیوایم پی ٹی آئی کی نیت صاف نہیں۔

پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ خان صاحب اور ایم کیوایم نے تین سالوں میں ایک قطرہ پانی کا اضافہ نہیں کیا۔ ارسا ہمارے حق پر مسلسل ڈاکہ ڈال رہاہے۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کراچی کا مسئلہ نہیں۔ ہم محدود جگہ پر سارے وسائل استعمال نہیں کرتےہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ پانی بحران کو انصاف کےساتھ حل کیاجاناچاہیے۔ پانی بحران پوری ملکی معیشت پر اثر انداز ہوگا۔ ارسا غیر متنازعہ فیصلے لے۔ وفاقی حکومت سرحدوں سےمہاجرین کی آمد کو روکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں