آخرذوالفقار گرفتاری کے وقت مسکرا کیوں رہا تھا؟

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) وفاقی دارالحکومت کی مرکزی شاہراہ ایکسپریس ہائی وے پر قائد اعظم کی قد آدم تصویر اور ان کے رہنما اصولوں یعنی ایمان ، اتحاد اور نظم کے سائے میں عریاں فوٹو شوٹ کرنے والے لڑکے ذوالفقار کی گرفتاری کی تصاویر سامنے آنے کے بعد ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے کہ آخر گرفتاری کے وقت یہ لڑکا مسکرا کیوں رہا ہے ، اس نے کون سے کارنامہ مارا ہے ؟۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز ذوالفقار نامی ایک لڑکے کی لاہور سے گرفتاری عمل میں لائی گئی جسے کل رات اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا ، ذوالفقار کیخلاف 294 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور اسی کی بنیاد پر اسے گرفتار کیا گیا لیکن سوشل میڈیا پر یہ سوال بہت پوچھا جا رہا ہے کہ آخر ذوالفقار نے کون سا کارنامہ مارا ہے کہ وہ گرفتاری کے بعد مسکرا رہا تھا۔

سوشل میڈیا پر پاکستان کے ایک طبقے کی طرف سے برملا یہ اظہار کیا گیا کہ ذوالفقار اور اس کے ساتھی نامعلوم لڑکی نے فوٹو شوٹ کرکے کچھ غلط نہیں کیا اور بحیثیت شہری اپنے حقوق کا استعمال کیا ہے ، یہ بھی کہا گیا کہ اگر کسی کو معلوم بھی ہو گا تو وہ ذوالفقار کا پتہ نہیں بتائیں گے لیکن پنجاب پولیس نے آخر کار ذوالفقار کو ڈھونڈ نکالا۔

جب ذوالفقار کو گرفتار کر کے لاہور سے اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا گیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جس پر سوشل میڈیا صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئےلکھا کہ اسے تو شرمندہ ہونا چاہئے لیکن یہ آخر مسکرا کیوں رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں