کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے نئی حکمت عملی تیار

اسلام آباد (پبلک نیوز) کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے نئی حکمت عملی تیار۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کی جانب سے ویکسینیشن کے مقرر کردہ اہداف حاصل کرنے کے لئے مربوط حکمت عملی واضح۔

سیکرٹری عمران سکندر بلوچ نے کہا ہے کہ تمام محکموں اور سیکٹرز کو مختلف تاریخیں تفویض کی گئی ہیں۔ تمام سیکٹرز اپنی تفویض کردہ تاریخوں کے مطابق مکمل ویکسینیشن یقینی بنائیں۔ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، خانیوال، میانوالی، سرگودھا، خوشاب، بہاولپور، گوجرانوالہ، رحیم یار خان، گجرات، شیخوپورہ، سیالکوٹ اور بھکر میں ان پابندیوں کا اطلاق کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یکم سے 15 ستمبر تک بس سٹینٹڈز، ٹکٹ آفس، ریسٹ ایریا اور ریلوے اسٹیشنوں پر آگہی مہمات چلائی جائیں گی۔ اس مرحلے میں عوام کو کسی سہولت سے روکا نہیں جائے گا صرف آگہی دی جائے گی۔ ان پابندیوں کو مختلف مرحلوں میں نافذ کیا جائے گا۔ مقرر کردہ آخری تاریخ کے بعد تمام سیکٹرز میں بغیر ویکسینیشن کسی فرد کو کوئی سہولت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بیرون اور اندرون ملک سفر کرنے والے افراد اورہوٹلز ،ریسٹورنٹس اور شادی ہالز میں داخلے کے لئے 30 ستمبرتک کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ، بین الصوبائی، شہروں کے اندر اور مابین چلنے والی گاڑیوں میٹرو، بی آرٹی، اورینج ٹرین میں سفر کے لئے 30 ستمبر تک مکمل ویکسین لگوانا لازم ہوگا۔ محکمہ تعلیم سے منسلک افراد اساتذہ، انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ سٹاف 30 ستمبر تک مکمل ویکسینشن یقینی بنائیں گے۔

کاروباری مراکز میں داخلے اور ہوٹلز اور ریسٹ ہاوسز میں بوکنگ کے لئے 30 ستمبر تک مکمل ویکسینیشن لگوانا ضروری ہو گا۔ تمام نجی اور سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے افراد 15 ستمبر تک پہلی جبکہ 15 اکتوبر تک دوسری ڈوز مکمل کروائیں۔ 15 ستمبر کے بعد نان فارما سوٹیکل انٹروینشن کا اطلاق کر دیا جائے گا۔ ٹرین اور تمام قومی شاہراہوں پر سفر کے لئے15 ستمبر تک پہلی جبکہ 15 اکتوبر تک دوسری ڈوز لگوانے کی شرط عائد کی گئی ہے

ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ میں اور ٹرمینلز پر کام کر نے والے افراد کے لئے 15 ستمبر تک پہلی جبکہ 15 اکتوبر تک دوسری ڈوز لگاوانا لازم ہے۔ کسی قسم کی سہولت دینے سے انکار نہیں کیا جائے گا بلکہ ویکسینیشن لگوانے کی ہدایت دی جائے گی۔ ٹریفک، موٹروے، ہائی وے پولیس اور ضلعی انتظامیہ ان قوانین پر عملدرآمد اور چیکنگ کی ذمہ دار ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں