افغانستان میں میڈیا کوریج کیلئے پاکستان نے کیا سہولتیں دیں؟

پبلک نیوز: وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی ہدایات کی روشنی میں اور عالمی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے وزارت اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ نے گزشتہ ماہ سے لے کر اب تک غیر ملکی میڈیا کو 250 ویزے اور 85 بارڈر کراسنگ این او سیز جاری کئے۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے تحت ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کے مطابق ای پی ونگ کو اس عرصہ کے دوران میڈیا کوریج کی 35 درخواستیں موصول ہوئیں۔ سول اور فوجی قیادت کے ساتھ بات چیت کرنے اور بعد ازاں طورخم بارڈر کا دورہ کرنے کے لئے یورپ اور بھارت کے اعلیٰ سطح میڈیا وفود کو مدعو کیا گیا۔ افغانستان میں مقیم غیر ملکی صحافیوں کو انخلاء یا افغانستان میں میڈیا کوریج کے خواہش مند صحافیوں کو ویزا سہولت فراہم کرنے کے لئے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ میں قائم ”غیر ملکی میڈیا کے لئے خصوصی سہولیاتی ڈیسک“ 24 گھنٹے کام کر رہا ہے۔

ای پی ونگ کے مطابق ای پی ونگ کو لندن، برلن، بیجنگ، واشنگٹن، اوٹاوا، برسلز، پیرس، سئیول، ماسکو، دوحہ، میڈرڈ، نیویارک، دی ہیگ، سٹاک ہوم، بینکاک، قاہرہ، دوبئی، نئی دہلی اور دوسرے ممالک سے افغانستان میں کراسنگ، کوریج اور ٹرانزٹ کے لئے سینکڑوں درخواستیں موصول ہوئیں۔ عالمی میڈیا ہاؤسز بشمول سی این این، بی بی سی، دی انڈیپنڈنٹ، گارڈین، زیڈ ڈی ایف، سکائی نیوز، واشنگٹن پوسٹ، وال اسٹریٹ جرنل، الجزیرہ، کیودو، این ایچ کے، جی جی ٹی این، فرانس 24، سی بی سی، سی ٹی وی، اے بی سی، این بی سی، ای آئی ۔ پی اے آئی ایس، ٹی وی 2، رائی نیوز نے بیرون ممالک پاکستانی پریس سیکشنز سے رابطہ کیا۔

ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کے مطابق ای پی ونگ میں قائم سہولیاتی ڈیسک میڈیا افراد کو خصوصی سہولیات کی فراہمی کے لئے وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، کابل میں پاکستانی سفارت خانہ اور آئی ایس پی آر کے تعاون سے 24 گھنٹے کام کر رہا ہے۔ وزارت داخلہ کے تعاون سے افغانستان میں پھنسے صحافیوں کے پاکستان میں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر داخلے کو ممکن بنایا گیا۔

ای پی ونگ کے مطابق ویزا کی اجازت دینے کا عمل ایک روز میں جبکہ بارڈر کراسنگ کیلئے این او سی کا عمل چند گھنٹوں میں مکمل کیا جا رہا ہے۔ بارڈر پر میڈیا کوریج کی درخواست پر عمل درآمد چند دنوں میں ہو رہا ہے جو اس سے پہلے مہینوں میں بھی ممکن نہ تھا۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی ان کوششوں کو عالمی میڈیا کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ غیر معمولی حالات میں کی جانے والی یہ کوششیں وزیراعظم اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں