گلیوں میں سبزی بیچنے والے ارشاد بھٹی کیسے نامور صحافی بنے؟

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) سنیئر صحافی ارشاد بھٹی نے کہا ہے کہ بچپن میں میرا سب سے بڑا خواب پکوڑے اور نان تھے، ایک روپے کے پکوڑے اور ایک روپے کا نان ملتا تھا، سکول میں بچے پکوڑے نان کھاتے تو میں سوچا کرتا تھا کیا کبھی میں انہیں کھا پاؤں گا، میرے ایک کزن نے میٹرک کے بعد مجھے لاہور بلوا لیا، میں نے ایم اے تک تعلیم پرائیویٹ حاصل کی تھی، ساتھ نوکریاں کرتا رہا، کبھی جنرل سٹور پر ، میڈیکل سٹور پر ، گلیوں کے اندر پھیری لگا کر سبزی بیچا کرتا تھا، پھر میڈیکل ریپ کی نوکری بھی کی۔

سوشل میڈیا پر ایک انٹرویو میں سنیئر صحافی ارشاد بھٹی اپنی زندگی کی کہانی سناتے ہوئے کئی بار آبدیدہ ہوئے، انہوں نے کہا کہ میری والدہ جوانی میں فوت ہو گئی اور ان کی یاد آ ج بھی آئے تو آنکھیں بھر آتی ہیں، میرے والد نے دوسری شادی کر لی اور میری سوتیلی ماں ویسی ہی تھی جیسی سوتیلی ماں ہوتی ہیں، بہت دھکے ، بہت فاقے کاٹے، سکول کی فیس دینا مشکل ہوتا تھا، میں تیسری چوتھی میں تھا تو سکول میں ٹافیاں بیچا کرتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایک جوتا تھا، ایک یونیفارم تھا جو میں نے چار سال پہنا، میری پاس بوری نہیں تھی جس پر میں سکول میں بیٹھ سکتا، قاعدہ اور سلیٹ بھی نہیں ہوتی تھی، اسی وجہ سے شائد میرا اللہ سے تعلق بن گیا، گرمیوں کے دن تھے تو میری یونیفارم پھٹ گئی تو میں گرمیوں کے دن میں پھٹی ہوئی یونیفارم پر لحاف پہن کر سکول جایا کرتا تھا۔

ارشاد بھٹی نے کہا کہ لاہور میں اکثر میرے پاس رہنے کیلئے جگہ نہیں ہوتی تھی، داتا دربار پر سویا اور وہیں پر اکثر کھانا کھاتا تھا۔ پھر میں نے سوچا کہ اسلام آباد جانا چاہئے، میں 95 میں اسلام آباد آیا، تب میں نے ایف اے کیا ہوا تھا، جب میں اسلام آباد آیا تو میری جیب میں ڈیڑھ سو روپے تھے۔ اگلی رات میں سی ڈی اے سرائے میں سویا، ایک سکول میں میری نوکری لیب اسسٹنٹ کے طور پر ہوئی، پھر ایک اخبار میں نوکری ہوئی، چار پانچ سال وہاں پر کام کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری بہنوں جیسی دوست تھیں نزہت انجم انہوں نے میری ملاقات اپنی دوست سے کروائی، وہ دبئی میں پیدا ہوئی تھیں اور ان کا تعلق امیر خاندان سے تھا ، اپنا گھر تھا، یہ میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا جب میری تنخواہ 3500 تھی اور ان کا ماہانہ جیب خرچ دس ہزار تھا، اللہ ان کو اجر دے انہوں نے سٹینڈ لیا اور آج وہ میری شریک حیات ہیں اور ہمارے دو بچے ہیں۔

ارشاد بھٹی نے کہا کہ میری اہلیہ نے کہا کہ میں نے اس غریب انسان کے ساتھ شادی کرنی ہے اور پھر ہماری 2002 میں شادی ہوئی ، میرا گھر کرائے پر تھا اس کا سارا کرایہ بیگم نے دیا، ایک ایف ایکس گاڑی تحفے میں دی، میری تنخواہ کیوں کہ تھوڑی تھی تو میری بیگم نے نوکری شروع کردی، پھر میں نے جرنلزم چھوڑ دی، بہت سارے اداروں میں کنسلٹنسی کی، اچھے دوست مل گئے، پھر اللہ نے مجھے وہ سب کچھ دے دیا جو میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں