گرفتاری سے پہلےفلسطینی کا مرتے ہوئے بیٹے کو ”آخری بوسہ“

یروشلم ( ویب ڈیسک ) سوشل میڈیا پر ایک فلسطینی کا ”آخری بوسہ“ وائرل ہو گیا ہے جہاں پر قابض اسرائیلی فورسز کی طرف سے گرفتاری سے قبل اس نے کینسر سے لڑتے ہوئے اپنے بچے کے ماتھے کو چوما کیونکہ اب اسے امید نہیں تھی کہ وہ واپس آئے گا تو اپنے بیٹے کو دیکھ سکے گا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دراصل یہ ایک تصویر ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک فلسطینی باپ اپنے بیٹے کے ماتھے پر بوسہ دے رہا ہے، یہ حجازی القاسمی ہے جو اپنے بیٹے احمد کے ماتھے پر بوسہ دے رہا ہے، حجازی القاسمی کو اسرائیلی قابض فورسز نے گرفتار کیا ہے جبکہ اس تصویر میں وہ اس گرفتاری سے پہلے نظر آرہا ہے۔

ننھا احمد القاسمی کینسر سے لڑ رہا ہے، ڈاکٹروں کے مطابق وہ آخری سٹیج پر ہے اور اگر اس کے والد کو اسرائیلی فورسز نے چھوڑا تو اس وقت تک وہ اس کا استقبال کرنے کیلئے شاید موجود نہ ہو، حجازی القاسمی پر الزام ہے وہ اسرائیل کیخلاف کارروائیوں میں مصروف رہتا ہے۔

احمد القاسمی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کی جس میں اپنے والد کے ساتھ یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ” میرے لئے خدا کافی ہے، وہ بہترین حفاظت کرنے والا ہے، قابض فوج نے میرے بابا کو گرفتار کر لیا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ جلد رہا ہوں گے اور خاندان میں واپس آئیں گے “۔

احمد القاسمی نو مہینے سے ہڈیوں کے کینسر میں مبتلا ہے، اس کا ترک ہسپتال میں ایک آپریشن بھی ہوا ہے جہاں اس کی دائیں ٹانگ کا ایک حصہ نکالا گیا ہے، احمد کی یروشلم کے ہسپتال میں کیمو تھراپی ہونی تھی جسے اس کے والد کی گرفتاری کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں