’افغانستان میں نئی حقیقت کو قبول کرنا ہو گا ‘

اسلام‌آباد(پبلک نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی جریدے “دی انڈیپنڈنٹ” کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ افغانستان کو انتشار سے بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے. افغانستان میں ایک نئی حقیقت ہے، نئی حقیقت کو قبول کریں.

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان پناہ گزین کیمپوں اور مہاجرین کی آبادکاری کی اجازت نہیں دیگا، برطانیہ کو افغانستان میں نئی حقیقت کو قبول کرنا چاہیے، طالبان الگ تھلگ کرنے سے معاشی تباہی ، انارکی اور انتشارہو گا، انسانی بحران سے بچنے کیلئے برطانیہ اور مغربی اتحاد کام نہیں کررہا، مغرب بغیر سیاسی شرائط کے طالبان حکومت کو سامان فراہم کرے.

وزیر خارجہ نے کہا جنگ زدہ ملک میں خوراک اور طبی سامان بھیجنے جیسے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، افغانستان تقریبا مکمل طور پر بین الاقوامی عطیات پر انحصار کر رہا ہے، اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے اس ماہ کے آخر تک خوراک ختم ہو سکتی ہے، ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا کہ 14 ملین افراد بھوک و افلاس کے دہانے پر ہیں. وزیر خارجہ نے کہا افغانستان میں ایک نئی حقیقت ہے، نئی حقیقت کو قبول کریں.

وزیر خارجہ نے کہا افغانستان کو تنہا کر دینا مدد نہیں دیا، انسانی بحران جنم لے گا، یہ معاشی تباہی کا باعث بنے گا، پاکستان کو طالبان کیساتھ گہرے تعلقات کیوجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، الزام لگایا گیا کہ پاکستان امریکی حمایت یافتہ حکومت کے مخالف گروپ کی حمایت کر رہا، یہ بھی الزام لگایا گیا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے پر بھی سہولت فراہم کی، الزامات مضحکہ خیز،جھوٹ اور پروپیگنڈا ہیں.

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ پاکستان کیساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے، اینٹنی بلنکن نے کہا پاکستان نے انسداد دہشتگردی پر واشنگٹن کے ساتھ تعاون کیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں