پی ایم ڈی اے کا کوئی مسودہ نہیں اور نہ آرڈیننس آرہا ہے

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) پی ایم ڈی اے سے نا صرف بجٹ کم ہوگا بلکہ پراسیس میں آسانی پیدا ہوگی، میڈیا کمپلینٹ کمیشن میں الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا سے منسلک صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی درخواستوں پر 21 دنوں میں فیصلہ ہوگا، میڈیا کمپلینٹ کمیشن کا فیصلہ میڈیا ٹربیونل میں چیلنچ کیا جاسکتا ہے ، جہاں سے 21 دنوں میں فیصلہ ہوگا۔

وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نےقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سب کمیٹی کی سربراہ مریم اورنگزیب کی جانب سے احتجاجی کیمپ میں جا کر پی ایم ڈی اے کو کالا قانون کہہ کر مسترد کیا، کیا ہی اچھا ہوتا کہ سب کمیٹی کی سربراہ غیر جانبدار رہتیں اور اپنا موقف اس فورم پر پیش کرتیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری توقعات تھیں کہ مشاورتی عمل میں بامعنی بحث کے ذریعے آگے بڑھیں ، پی ایم ڈی اے فریم ورک پر پی بی اے، اے پی این ایس، سی پی این ای اور ملک کے 5 بڑے پریس کلبز ،پی ایف یو جے سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے، پیمرا، اے بی سی، پریس رجسٹرار،پریس کونسل،موشن پیکچراور دیگر میڈیا سے متعلق ادارے ہیں، انکو پی ایم ڈی اے چھتری تلے یکجا کرنے جارہے ہیں۔

فرخ حبیب نے کہا کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکے گا، پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کسی صورت میڈیا کمپلنٹ کمیشن پر اثر انداز نہیں ہوگا، میڈیا کمپلنٹ کمیشن کی لاہور، ملتان، سکھر، کراچی،کوئٹہ،پشاور اور اسلام آباد میں موجودگی ہوگی، او ٹی ٹی پیکٹ فارم پر ہمارا مقامی کانٹینٹ بالکل بھی نہیں ہے، ہم نے پی ایم ڈی اے کے لئے آف کام، سنگاپور اور ملائیشیا ماڈل سے راہنمائی لی ہے،صحافی اور میڈیا ورکرز کا مطالبہ ہے کہ تنخواہوں اور ویج بورڈ کا مسئلہ حل کریں، پی ایم ڈی اے کا کوئی مسودہ نہیں ہے اور نہ ہی آرڈیننس لارہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں