خالصتان تحریک کا مودی کے دورہ امریکہ پر احتجاج کا اعلان

واشنگٹن ( ویب ڈیسک ) ایک طرف بھارتی سکھوں کا کہنا ہےکہ کسانوں کے احتجاج کے دوران انتہا پسند مودی سرکار نے مبینہ طورپر تین ہزار سے زائد سکھوں کا قتل کیا ہے جبکہ دوسری طرف نریندر مودی بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں اور ایسے موقع پر خالصتان تحریک نے امریکہ میں احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خالصتان آزادی کی تحریک سے وابستہ تنظیم سکھ فار جسٹس نے اعلان کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے موقع پر احتجاج ہو گا، کیونکہ مودی نے بھارت میں پرامن احتجاج کرنے والے کسانوں پر تشدد کیا اور اب تک مبینہ طور پر تین ہزار سے زائد سکھوں کو موت کے منہ میں دھکیلا ہے۔

اس حوالے سے سکھ تنظیم کی طرف سے سوشل میڈیا اور امریکہ میں پوسٹرز لگا دئیے گئے ہیں جن کا متن کچھ یوں ہے کہ مودی سرکار نے بھارتی پنجاب میں احتجاج کرنے والے مبینہ طور پر تین ہزار سے زائد سکھوں کو قتل کیا ہے، اس لئے مودی کے 25 ستمبر کے دورہ کے موقع پر امریکہ میں پرزور احتجاج کی کال دیدی گئی ہے

خالصتان تحریک کے سکھ رہنما گرپٹونٹ سنگھ پنون نے سوشل میڈیا پر جاری کی جانیوالی ایک ویڈیو میں کہا کہ مودی بھارت کا تخریب کار چہرہ ہے، گزشتہ نو ماہ میں ہمارے تین ہزار سے زائد کسان بھائیوں کی موت ہو چکی ہے اور اس کا ذمہ دار مودی ہے، مودی یاد رکھنا، وائٹ ہاؤس میں تمہاری آمد کے موقع پر تمہیں ہمارا سامنا کرنا پڑے گا۔

سکھ رہنما نے کہا کہ تمہیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا، جب یہ اقوام متحدہ میں امن کا پرچار کر رہا ہو گا اس وقت خالصتان کے سکھ اس مودی کو دنیا کے سامنے ننگا کریں گے، مودی تم امریکہ میں جاگ کر راتیں گزارو گے اور ہم تمہا را چھپا ہوا چہرہ سامنے لے کرآئیں گے، سکھ قوم کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک تم اپنا حق نہیں لو گے تمہاری زمینوں پر قبضہ ہوتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں