افغانستان میں خانہ جنگی کا خدشہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی کا خدشہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے، اگر افغانستان میں صورتحال خراب ہوتی ہے تو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کو اپنا نیٹ ورک بڑھانے کا موقع میسر آ سکتا ہے ، افغانستان گذشتہ دو سالوں سے قحط سالی کی کیفیت سے دوچار ہے اگر اس کا سدباب نہ کیا گیا تو وہاں انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان سمیت خطے کے اہم ممالک شامل ہیں، خطے کی سطح پر تجارت، سرمایہ کاری، اور روابط کے فروغ کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم اہم پلیٹ فارم ہے، کاسا 1000،تاپی گیس پائپ لائن اور ریل لنک منصوبے، پورے خطے کیلئے یکساں طور پر مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان بہت گہرے تعلقات ہیں، تاجکستان کے صدر پاکستان تشریف لائے اور اس دوران بہت سے اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے، رواں سال کے دوران یہ میرا، تاجکستان کا چوتھا دورہ ہےجو پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تعلقات کی وسعت کا مظہر ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ حال ہی میں، افغانستان کی صورتحال پر علاقائی سطح پر متفقہ لائحہ عمل کی تشکیل کے لیے میں نے خطے کے چار ممالک کا دورہ کیا جس میں تاجکستان بھی شامل تھا، خطے کے وزرائے خارجہ کا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، اس ورچول اجلاس کی میزبانی پاکستان نے کی ۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے خطے میں امن و استحکام کے لئے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا، شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں زیادہ تر گفتگو افغانستان کی صورتحال اور امن کاوشوں سے متعلق ہوگی کیونکہ اس اجلاس میں شامل ممالک کی تشویش اور چیلنجز یکساں ہیں، میری 15 اگست سے اب تک 24 سے زیادہ وزرائے خارجہ کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر گفتگو ہو چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، افغانستان کی انسانی امداد، ادویات و خوراک کی ترسیل کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کے اس اجلاس کے ذریعے ہم مشاورت کے ساتھ علاقائی سطح پر افغانستان کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دے سکتے ہیں، میری رائے میں ہندوستان کو چاہیے کہ وہ پاکستان پر الزام عائد کرنے کی روش چھوڑ کر نئی حقیقت کا سامنا کرے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں پیش آنے والے حالات و واقعات کی بنیادی ذمہ داری افغانستان کی سابقہ ناکام حکومت پر عائد ہوتی ہے، ہندوستان، دوحہ میں ہونیوالے بین الافغان مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا رہا ، ہندوستان کو چاہیے کہ وہ اسپائیلر کا کردار ترک کر کے،خطے کے امن و استحکام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، امن کاوشوں کا حصہ بنے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں