افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا

دوشنبے ( ویب ڈیسک ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تجارت ، سرمایہ کاری اور باہمی روابط کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم بہترین پلیٹ فارم ہے، عالمی وبا کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوئی ہے، افغانستان کا مسئلہ ہم سب کو مل کر حل کرنا ہو گا، خطے کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے جنہیں مل کر حل کرنا پڑے گا۔

دوشبنے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 20 ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افغان میں خون بہائے بغیر اور سول وار کے بغیر حکومت کی تبدیلی کا عمل مکمل ہوا ہے، پسند کریں نہ کریں لیکن پاکستان نے روس کے افغانستان سے ا نخلا میں اہم کردار ادا کیا تھا، یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ افغانستان کے مسئلہ کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ افغانستان کی سابقہ حکومت 75 فیصد بیرونی امداد کے ساتھ نظام حکومت چلا رہی تھی، یہ افغانستان کی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے، افغانستان میں ایسی حکومت ہونی چاہئے جس میں تمام شعبوں کی نمائندگی ہو، ہم ایک ترقی کرتے ہوئے افغانستان کی مدد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وہاں کی عوام اپنی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے، افغانستان ایسا ملک ہے جس کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا ، ہماری شجر کاری مہم کو دنیا کے مختلف ممالک نے سراہا ہے، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں