29‌ہزار کا سکول ڈیسک، سعید غنی کیا کہتے ہیں ؟

کراچی ( پبلک نیوز) سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ ہمارے دوست بازار سے بینچ خرید کرلے آئے، سرکاری اداروں میں پیسے جیب میں ڈال کر لیاقت آباد سے خریداری نہیں کرسکتے ہیں، پہلا ٹینڈر جب ہوا تو سردار شاہ وزیر تھے، دوسرا ٹینڈرز جب ہوا تو وزیر اعلیٰ خود تھے، تیسرے ٹینڈر میں میں وزیر تھا، اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ نیب میں جا سکتے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ میں جب وزیر تھا تو مجھے کمیٹی کے ممبران پر یقین ہے، 3.6 ارب روپے اس کی کاسٹ ہے، ایک ارب روپے اس میں ٹیکسز ہیں، اس میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات ہیں، سکولوں میں اس کو پہنچانا ہے، کسی کو ایڈوانس پیمنٹ نہیں کی گئی، ہمارے پاس بینک گارنٹی موجود ہے، جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ درست ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کا سربراہ حکومت اپنی مرض سے نہیں بنا سکتی ہے، 2018 میں جو وزیر تھے، انہوں نے ممبران کی منت کی ہوگئی،میں چاہتا ہوں یہ ٹینڈرز منسوخ ہوجانا چاہیے، نجی ارکان ہمارے نوکر نہیں ہیں، زبانی باتوں پر نہ جائیں، کسی ممبر سے جاکر پوچھ لیں کہ منسٹر نے کیا ہے اس کو ٹینڈرز دے دیں، مجھے جو بھی سزا دے دیں، یہاں صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں