’بس اڈے شہر سے باہر منتقل ہونے پر تکلیف کیا ہے؟‘

کراچی (پبلک نیوز) سندھ ہائیکورٹ نے بس اڈوں کو کراچی سے باہر منتقل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت میں صوبائی حکومت سمیت دیگر متعلقہ فریقین سے تفصیلی جواب طلب کرلیا۔

سندھ ہائیکورٹ نے بس اڈوں کو کراچی سے باہر منتقل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت میں ریمارکس دئیے کہ بس اڈے شہر سے باہر منتقل ہونے پر تکلیف کیا ہے؟ اندرون سندھ سمیت دیگر شہروں سے کراچی آنے والوں کو مخصوص اڈوں پر کیوں نہیں پہنچایا جاتا؟

عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمے میں کہا کہ ہر شہر میں جنرل بس اسٹینڈ ہوتا ہے، کراچی میں کیوں نہیں؟ جس پر شہریار مہر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کراچی میں سرکاری بس اسٹینڈ نہیں ہے جس پر عدالت نے ریمارکس میں مزید کہا کہ شہریوں کی پریشانی کا اندازہ ہے بھی یا نہیں؟

سماعت کے دوران ٹرانسپورٹرز نے عدالت کو بتایا کہ ہم عوام کوسہولت فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ اڈے شہر سے باہر منتقل ہونے پر اخراجات بڑھ گئے ہیں،بس اڈے شہر کے اندر چلانے کی اجازت دی جائے، عدالت نے صوبائی حکومت سمیت دیگر متعلقہ فریقین سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں