چھاتی کے کینسر کی نئی دوا اثردار

لندن(ویب ڈیسک) ایسٹرازینیکا نے اعلان کیا ہے کہ چھاتی کے کینسر کی ایک نئی دوا تیار کی گئی ہے جو موجودہ علاج کے مقابلے میں موت یا بیماری کے بڑھنے کے خطرے کو 72 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔

برطانوی دوا ساز فرم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی موثر دوا اینہرٹو کے ٹرائل کے نتائج حیران کن تھے اور اس میڈیسن نے مجموعی بقا کو بہتر بنانے کی طرف ایک مضبوط رجحان ظاہر کیا ہے۔ اس نئی دوا کے ٹرائل میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹریسٹوزوماب ایمٹانسائن (T-DM1) سے علاج کیے جانے والے 34.1 فیصد مریضوں کے مقابلے میں تین چوتھائی مریضوں میں 12 مہینوں کے بعد بیماری میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔

آسٹرا زینیکا میں آنکولوجی آر اینڈ ڈی کی ایگزیکٹو نائب صدر سوسن گالبریت نے نتائج کو حیران کن طور پر موثر قرار دیا ہے۔چھاتی کے کینسر ریسرچ کے نائب صدر ڈاکٹر سنیل ورما نے کہا مطالعے کے قابل ذکر نتائج کے ساتھ کینسرکے مریضوں میں اینہرٹو کا استعمال کیموتھریپی کے بعد HER-2- مثبت میٹاسٹیٹک چھاتی کے کینسر کے مریضوں کے علاج کا نیا معیار بن سکتا ہے۔

امریکی غیر منافع بخش Breastcancer.org کے مطابق ہر آٹھ میں سے ایک عورت کو چھاتی کے کینسر کا سامنا کرنا پڑتا ہے حالانکہ گزشتہ سالوں میں مجموعی طور پر اموات کی شرح میں کمی آئی ہے، بنیادی طور پر علاج کی پیش رفت اور اسکریننگ کے ذریعے پہلے پتہ لگانے کی وجہ سے بریسٹ کینسر کے کیسز میں کمی آئی ہے تاہم یہ شرح بھی بہت زیادہ ہے۔

2021 میں امریکہ میں عورتوں میں چھاتی کے کینسر کے تقریبا 250،000 نئے کیسز کی تشخیص متوقع ہے جبکہ 40،000 خواتین کے اس بیماری سے مرنے کی توقع ہے۔مزید برآں یورپ میں ہر سال چھاتی کے کینسر کے تقریبا 360،000 نئے کیسز اور 92،000 اموات ہوتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں