’معدنیات سےمتعلق جامع حکمت عملی بنارہےہیں‘

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت ملکی معدنیات کے ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے جامع حکمتِ عملی بنا رہی ہے۔ معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت معدنی ترقیاتی پروگرام پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء حماد اظہر، اسد عمر، متعلقہ شعبے کے وفاقی اور صوبائی اعلی افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کو معدنی ترقیاتی پروگرام کے نکات اور مجوزہ اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ شعبے کو درپیش مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ قانونی و انتظامی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے مواقع کے فروغ کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی مدنظر رکھ کر پروگرام مرتب کیا جا رہا ہے۔

اس دوران ملکی معدنیات کے ذخائر پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ ملک میں چٹانی نمک، چونے کا پتھر، جپسم، چینی مٹی، سلیکا ریت اور کئی دوسری صنعتی معدنیات کے ذخائر موجود ہیں۔ پاکستان میں کرومائٹ، تانبے، سونے، چاندی، لوہے، لیڈ اور زنک کے دھاتی ذخائر موجود ہیں۔

سنگِ مرمر، گرینائٹ اور ریت کے پتھر کے بھی وسیع ذخائر کی موجودگی سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ اس کے علاوہ پکھراج، زمرد، روبی، ٹورمالین (ترمری) اور ایکوامیرائن (نیلگوں بلور) جیسے قیمتی پتھر اور کوئلے کے ذخائر بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ چنیوٹ اور کالا باغ میں لوہے کے ذخائر پر سرمایہ کاری کے لیے حکمتِ عملی حتمی مراحل میں ہے۔ اجلاس کو چاروں صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان میں بھی موجود ممکنہ ذخائر کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ شعبے کی ترقی کے لیے تحقیق کے فروغ کے لیے اقدامات بھی پروگرام میں شامل ہوں گے۔

وزیرِ اعظم نے پروگرام کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور ان سے فائدہ اٹھانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں