جوکر بننے والی صائمہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی

لاہور ( پبلک نیوز)سڑکوں پر جوکر بن کر گھر چلانے اور ماں کا علاج کروانے والی میڈیکل کی طالبہ صائمہ کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب کی مالی امداد اور سرکاری نوکری جھوٹ نکلی ، پبلک نیوز نے آواز اٹھائی تو ٹوئٹر صارفین بھی میدان میں آ گئے ، ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنا دیا. صائمہ کا کہنا ہے کہ اگر آپ کچھ نہیں کر سکتے تو وعدہ نہ کریں، کسی کی مجبوریاں نہ بیچیں، میں جوکر بن کے کما رہی تھی مگر اب میری زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے، مجھ سے وعدے کئے گئے ، اب میری کال کوئی پک نہیں کرتا، اگر وعدے پورے نہیں کر سکتے تو کسی کی زندگیاں برباد نہ کیا کریں۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا سے ایک انٹرویو کے ذریعے وائرل ہونے والی صائمہ جو لاہور کی سڑکوں پر جوکر بن کر پڑھی لکھی ہونے کے باوجود محنت کرتی تھیں ان کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے ان کی امداد اور نوکری کا دعویٰ جھوٹ نکلا ہے اور ان کا اب کوئی فون بھی نہیں اٹھاتا ہے ۔

پبلک نیوز کو ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں یہ سب اپنی امی کیلئے کر رہی تھی، ان کے علاج کیلئے جوکر بنی تھی، باپ اور بھائی کا سایہ اٹھا تو میں نے سوچا کہ اب میری ذمہ داری ہے کہ اپنی ماں کا سہارا بنوں۔

انہوں نے کہا کہ اپنی ماں کیلئے میں جوکر تو کیا کوئلوں پر بھی چل لوں گی، حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ صائمہ کو تین لاکھ دئیے، گھر بھی دیدیا، نوکری بھی دیدی ایسا کچھ نہیں ہے، مجھے کچھ نہیں دیا گیا، بس میرے گھر میں ہر جگہ کی ویڈیو بنائی گئی ، میری امی کے زخم بھی پوری دنیا نے دیکھی ۔

صائمہ نے کہا کہ نئے پاکستان میں میں نے بیٹیوں کو روز مرتے ہوئے دیکھا ہے،یہ مرنا ہی ہوتا ہے جب آپ اپنی مجبوریاں لے کر کسی کے بستر پر سو جاتے ہیں، یہ مرنا ہی ہے، مجبوری میں ہم کیا کریں، کوئی ہماری مجبوریاں چند پیسوں میں خریدتا ہے، ہماری عزتیں اتنی سستی ہو گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں ہر بیٹی ، ہر ماں اتنی سستی ہو گئی ہے کہ ہر چوک پر وہ مل رہی ہے، کیوں ؟ مجھے مکان نہیں چاہئے ، بس جو ہم دو وقت کی روٹی عزت سے کمانا چاہتے ہیں ہمیں وہ کمانے دی جائے، میں نوکری کرنا چاہتی ہوں ، میں بھیک پر نہیں رہنا چاہتی، ہر انٹرویو میں میں نے بولا ہے کہ مجھے ڈونیشن نہیں چاہئے، مجھے نوکری چاہئے، مجھے اپنے مسلمان بھائیوں پر حیرت ہوتی ہے کہ پانچ پانچ کنال کے گھر ہیں مگر میں اور میری امی سڑک پر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے سڑکوں پر تھپڑ بھی کھائے ہیں، منہ چھپا کر پھر رہی تھی ، وہ تھپڑ ٹھیک تھے میرے لئے ،مجھے جوکر بنے ہوئے ایک چوک میں تھپڑ لگتا تھا تو اگلے چوک میں کوئی گلے لگا لیتا تھا کہ یہ لوگوں کو ہنسا رہی ہے، کیا فرق پڑتا ہے کہ کوئی بیٹی جسم بیچے یا کھلونے بیچے، کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ جس کی بیٹی تھی وہ مر گیا، جس کی بہن تھی وہ مرگیا۔

انہوں نے کہا کہ آپ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں مگر مجھے تماشابنا دیا گیا ہے، ہماری مالک مکان کہتی ہیں کہ اپنے لئے گھر کا بندوبست کر لو ، تم نے ساری دنیا کو میرا گھر دکھا گیا ہے، مجھے پچاس ہزار دیئےگئے ، مجھے بتائیں میں اس کی کتنی فوٹو کاپیاں کروائوں؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں