ہاتھ پھیلانے والے کی دنیا عزت نہیں کرتی

ڈیرہ اسماعیل خان ( پبلک نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں جب مدینہ کی ریاست کی بات کرتا ہوں ، تو میں ان لوگوں کی طرح نہیں ہوں جو اسلام کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کرتے ہیں، ووٹ لینے کیلئے، یہ میرے ایمان کا حصہ ہے، میں تاریخ کا طالبعلم ہوں، میں نے دنیا کی تاریخ پڑھی ہے، میں نے بڑی تفصیل کے اندر اپنی تاریخ پڑھی ہے، پھر اسلام کی تاریخ اور مجھ پر جس کا سب سے زیادہ اثر پڑا میں نے نبی اکرم ﷺ کی زندگی بڑی تفصیل سے پڑھی ہے۔

کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں مدینہ کی ریاست کا اس لئے ذکر کرتا ہوں کہ یہ دنیا کی تاریخ میں بہت بڑا انقلاب آیا تھا، اس سے بڑا کبھی انقلاب نہیں آیا اور ہمارے نبی ﷺ واحد پیغمبر تھے جن کی ساری زندگی تاریخ کا حصہ ہے، اور کیسے وہ لوگ جن کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی ، عربوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی مگر چند سالوں میں انہوں نے دنیا کی امامت کرنا شروع کر دی، ہم صرف جمعہ کے خطبہ میں سن کر آ جاتے ہیں ہماری زندگیوں پر دین کا کوئی اثر نہیں ہوتا اس لئے ہمارے حالات برے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں بڑے بڑے مافیا بیٹھے ہیں جو قانون سے اوپر ہیں، قانون کی بالادستی قائم نہیں ہونے دیتے کیونکہ وہ کرپٹ سسٹم سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جب تک یہ مافیا بیٹھا ہے تب تک ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ، کبھی بھی جھوٹے لوگ بڑی قوم نہیں بنا سکتے ، سچے لوگ، دلیر لوگ جو اللہ کو ماننے والے لوگ ہیں وہ بڑی قوم بنا سکتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ اللہ نے اس ملک کو کسی چیز کی کمی نہیں دی، یہ خطہ وہ ہے جس میں سب کچھ دیدیا ہے،قوم بننے کیلئے ہمیں سچائی چاہیے، جو بھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے اس کی دنیا عزت نہیں کرتی ، ہماری آبادی جب پاکستان بنا تو چار کروڑ سے بھی کم تھی، آج ہماری آبادی 22 کروڑ سے بھی بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پچھلے سال چالیس لاکھ ٹن گندم امپورٹ کی ہے، اس دفعہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ گندم ہم نے پیدا نے کی ہے، لیکن اس کے باوجود ہمیں گندم امپورٹ کرنا پڑے گی، ابھی سے ہمیں پلاننگ کرنی ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو کیسے اناج دینا ہے، اگر ایسا ہی رہا تو پاکستان میں بہت بھوک ہو گی ۔

وزیر ا عظم نے کہا کہ پچاس سال کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ ڈیم بن رہے ہیں، انشا اللہ دس سالوں میں ہم نے دس ڈیم بنانے کا پروگرام بنایا ہوا ہے، سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہے کہ پانی کتنا ہے، بچانا کتنا ہے اور پانی کا بہتر استعمال کیسے کرنا ہے، اس طرح ہم زمین سے زیادہ پیداوار لے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمسائیہ جو ہمارے ساتھ آزاد ہوا تھا اس کی ہمارے سے زیادہ پیداوار ہے، کیونکہ وہاں ریسرچ زیادہ ہوتی ہے، ایوب خان کے بعد پہلی بار ہمارے دور میں کام کا آغاز ہوا ہے، اب ہر سال ہم اس میں اضافہ کرتے چلے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں