طالبہ کے 1100 میں سے 1100 نمبر کیسے آئے ؟

پشاور( پبلک نیوز )خیبر پختونخواہ کے امتحانات میں حیران کن طور پر میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے انتخابات میں تاریخی اور غیر حقیقی نمبر لینے پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی، یہ کمیٹی پیپرز دوبارہ چیک کرنے کے ساتھ ساتھ اس امر کا جائزہ بھی لے گی کہ ایک طالبہ کے نمبر کیسے 1100 میں سے 1100 آگئے۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخواہ امتحانات میں ایک طالبہ نے حیران کن طور پر 1100 میں سے 1100 نمبر حاصل کر کے پورے پاکستان میں جہاں ایک ریکارڈ قائم کر دیا ہے وہیں پر اس امر پر حیرانی ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ غیر یقینی نمبرز کیسے حاصل کئے گئے ہیں اس لئے خیبر پختونخواہ حکومت نے ایک 8 رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جو تمام طلبہ کے پیپرز دوبارہ چیک کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر عوامل کا جا ئزہ لے گی ، ایسے تمام طالبعلم جن کے نمبر 1080 سے زیادہ آئے ہیں وہ اس ریڈار میں شامل ہیں۔

خیبر پختونخواہ میں میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات میں ریکارڈ توڑ نمبروں نے تعلیمی نظام پر ایک سوال اٹھا دیا ہے اور اس غلطی سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ رزلٹ کی فراہمی اور پیپر چیکنگ کے نظام میں بہت بڑے سقم موجود ہیں،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں ڈاکٹر صفیہ نور، ڈاکٹر شفقت رحمان ، ڈاکٹر عجب خان ، جہاد خان، سائر خان، حضرت محمد، عصمت اللہ اور سجاد احمد شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں