24

سینٹ انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل

اسلام آباد: پنجاب اور بلوچستان سے دو، دو ٹیکنوکریٹ بلا مقابلہ منتخب ہونے والے ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات کے لیے ملک بھر سے امیدواروں کی جانب سے دائر کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل کرلیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ای سی پی کو کل 170 نامزدگی کے کاغذات موصول ہوئے تھے۔ اس نے ان میں سے 25 کو مختلف بنیادوں پر مسترد کردیا جبکہ تین امیدوار دوڑ سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کے وفات کے بعد ان کی نامزدگی ‘ختم’ ہوگئی ہے لہذا ای سی پی کے پاس نامزدگی کے درست کاغذات کی تعداد اب 141 ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عطا اللہ خان اور پاکستان تحریک انصاف کے سید علی ظفر پنجاب میں 2 ٹیکنوکریٹ نشستوں پر تیسرے امیدوار کے کاغذات واپس لینے کے بعد بلامقابلہ منتخب ہونے والے ہیں۔

امیدوار نے یہ اعتراض اٹھائے جانے کے بعد اس دوڑ سے دستبرداری اختیار کرلی کہ وہ چند سرکاری منصوبوں کے لیے انجینئرنگ ٹھیکیدار کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہے اور عوامی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کے اہل ہونے کے لیے دو سالہ لازمی وقفے کی مدت پوری نہیں کی ہے۔ پنجاب سے خواتین کی دو نشستوں کے لیے تین امیدواروں نے حصہ لیا ہے جن میں مسلم لیگ ن کی سعدیہ عباسی اور سائرہ افضل تارڑ اور پی ٹی آئی کی زرقا سہروردی شامل ہیں۔

بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے سعید احمد ہاشمی اور جمعیت علمائے اسلام (ایف) کے کامران مرتضی صوبے سے ٹیکنوکریٹ کی دو نشستوں پر بلامقابلہ واپسی آنے والے ہیں۔ صوبے سے ٹیکنوکریٹ کی دو نشستوں پر انتخاب لڑنے کے لیے آٹھ امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے تھے تاہم پانچ امیدواروں کے کاغذات مسترد ہونے کے بعد اب تین امیدوار اس دوڑ میں رہ گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا سے سینیٹ انتخابات میں 12 نشستوں کے لیے کل 51 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، ان میں سے 27 امیدواروں کا تعلق حکمران جماعت پی ٹی آئی سے ہے۔ تاہم ای سی پی نے مختلف بنیادوں پر 11 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے جس سے 40 امیدوار اس دوڑ میں باقی رہ گئے میں حصہ لیا تھا۔

سینیٹر سجاد حسین طوری جو موجودہ ایوان بالا میں پی ٹی آئی کے اہم رکن ہیں، ان میں شامل ہیں جن کے کاغذات عام نشست کے لیے مسترد کردیے گئے۔ ای سی پی کے ایک ترجمان نے کہا کہ سجاد حسین طوری کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے جس کی وجہ سے وہ نا اہل ہوگئے۔ ٹیکنوکریٹس کی نشست پر پی ٹی آئی کے امیدوار حمید الحق، جے یو آئی (ف) کے ظہیر علی، مسلم لیگ (ن) کے ریحان عالم اور آزاد امیدوار نصراللہ خان کو مطلوبہ تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کردیا گیا۔

دارالحکومت سے واحد جنرل نشست پر پی ٹی آئی کے ڈاکٹر حفیظ شیخ اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مابین ون ٹو ون مقابلہ متوقع ہے۔ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ جو اس وقت وفاقی کابینہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اس سے پہلے مسٹر یوسف رضا گیلانی کے وزیر اعظم ہونے کے دور میں اسی عہدے پر رہ چکے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی اور عبدالحفیظ شیخ کے درمیان مقابلہ قومی اسمبلی میں پارٹی کی پوزیشن کی وجہ سے بہت اہمیت حاصل کر چکا ہے جہاں حکمران اتحاد کو صرف 20 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے۔

10 پی پی پی 13 امیدواروں کے لیے 14 نامزد امیدواروں کے ساتھ نامزدگیوں میں سرفہرست ہے، اس کے بعد پی ٹی آئی 12 نامزدگیوں کے ساتھ دوسرے اور ایم کیو ایم پاکستان نامزدگیوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ ترمیم شدہ انتخابی شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی منظوری یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 19 اور 20 فروری کو دائر کی جائیں گی اور اس کا فیصلہ 22 اور 23 فروری کو ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں