پاکستان ایئر فورس وار کالج بل 2021 سینیٹ کمیٹی سے بھی پاس

اسلام آباد (پبلک نیوز) فیڈرل ایجوکیشن سٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین عرفان الحق صدیقی کی سربراہی میں اجلاس، پاکستان ایئرفورس وار کالج انسٹیوٹ بل کے حوالے سے کمیٹی ممبران سے مشاورت۔

سینیٹر مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ ہماری فورسز کے ادارے قابل فخر ہیں۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) جیسا ادارہ ہمارے سامنے ہیں۔ پی اے ایف وار کالج ضرورت ہے اس کو ہونا چاہیے۔ سینیٹر ڈاکٹر مہر تاج روحانی نے کہا کہ ملک کی خدمت کرنے والے ہماری شان ہیں۔ آرمی ایئر فورس کے کسی بھی فائدہ کا پروجیکٹ ہو ہم اس کے ساتھ ہیں۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی کا کہنا تھا کہ پی اے ایف وار کالج انسٹیوٹ بل کمیٹی ممبران کی مشاورت سے پاس کیا جاتا ہے۔ پی اے ایف وار کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا بل سینیٹ کمیٹی سے بھی پاس ہو گیا۔

انھوں نے واضح کیا کہ یہ ایک اہم بل تھا جو پہلے قومی اسمبلی سے پاس ہوا۔ ایئر فورس ادارہ نصف صدی سے کام کر رہا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے مسلح افواج کے تعلیمی اداروں کا ڈسپلن مثالی ہوتا ہے۔ اس ادارے کو ضرورت تھی اس کا سٹیٹس بڑھایا جائے اور اس کا ڈگری ایوارڈ تک سٹیس ہو۔ قومی اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد یہ بل سینٹ میں آیا۔

عرفان الحق صدیقی کے مطابق تمام ممبران کمیٹی سے مشاورت کے بعد اتفاق رائے سے اس بل کو منظور کرلیا گیا۔ مسلح افواج کے اداروں میں سول طلبہ و طالبات کو بھی معیاری تعلیم کے مواقع ملتے ہیں۔ ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں