ایرا کو ملنے والا پیسہ کہاں، 2005 سے اب تک 540 سکول کیوں نہ بنے؟

اسلام آباد (پبلک نیوز) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ایرا نے 2005 زلزلے کے بعد سے اب تک کچھ نہیں کیا۔ اتنا ایرا نے کام نہیں کیا جتنا عوام نے زلزلہ زدگان کی جا کر مدد کی۔ حج پر جانے کے ارادے سے جمع کیے گئے پیسے لوگوں نے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے دیے۔

سپریم کورٹ میں کے پی کے زلزلہ زدہ علاقوں میں سکولوں کی عدم تعمیر سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے چیئرمین ایرا سے استفسار کیا کہ ایرا کب بنا تھا؟ جس پر بتایا گیا کہ ایرا 24 اکتوبر 2005 کو بنا تھا۔ استفار کیا کہ قیام سے لے کر اب تک ایرا کیا کر رہا ہے؟ 2005 سے اب تک 540 سکول کیوں نہیں بن سکے؟ ایرا کو ملنے والا پیسہ کہاں خرچ ہوا؟

چیئرمین ایرا نے کہا کہ عدالت سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو پوچھا ہے اس کا جواب دیں۔ ایرا نے بتایا کہ ان کو 592 ارب روپے ملے، اس رقم سے کیا تعمیر کیا؟ سارے اسکول ٹوٹے پڑے ہیں آپ کر کیا رہے ہیں؟ ہم کس دور میں جی رہے ہیں یہ کیا ہو رہا ہے؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 2005 میں زلزلہ آیا دنیا بھر سے پیسا آیا دو سال میں سب از سر نو تعمیر ہو جانا چاہئے تھا۔ ایسے نئے شہر بنتے جو دنیا کے نقشے پر مثال قائم کرتے۔ جو مستقبل میں اس قوم کے معمار ہیں ان کے ساتھ کیا حال کر رہے ہیں آپ؟

چئیرمین ایرا سے مکالمہ کے دوران کہا کہ چئیرمین صاحب آپ بس کاغذات دکھا رہے ہیں جو بس نظر کا دھوکہ ہیں۔ چئیرمین ایرا نے کہا کہ ہم نے بہت سے گاوں تعمیر کیے ہیں اجازت دی جائے کہ عدالت میں پیش کروں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے حکم دیا گیا کہ جتنے گاوں ایرا نے زلزلے کے بعد تعمیر کیے ان کی تصاویر کے ساتھ تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں