حضرت ابراہیمؑ کے مزار پر یہو دی آباد کاروں کا رقص

ہیبرون ( ویب ڈیسک ) یروشلم سےچند میل کے فاصلے پر ہیبرون شہر کی مسجد ابراہیمی میں یہودی آباد کاروں کا رقص، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد امت مسلمہ میں اشتعال کی لہر دوڑ گئی، یہودی آباد کاروں نے مسجد ابراہیمی میں حضرت ابراہیم ؑ کے مزار کے پاس رقص کیا، جشن منایا اور تلمودی نماز پڑھی ۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہودی آباد کار ہیبرون شہر کی مسجد ابراہیمی میں رقص کرنے میں مصروف ہیں، میوزک بج رہا ہے اور اس پر جشن منایا جا رہا ہے، اس ویڈیو کے وائرل ہونے پر فلسطینی وزارت اوقاف کی طرف سے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہودی آباد کاروں کی طرف سے مسجد میں رقص کرنے اور میوزک بجانے سے مسلمانوں کی شدید دل آزادی ہوئی ہے۔

29ستمبر کو یہودی آبادی نے مسجد ابراہیمی میں حضرت ابراہیمؑ کے مزار کے پاس اپنی روایتی تلمودی نماز پڑھنے کے بہانے عبادت کو جشن میں تبدیل کر دیا، میوزک چلایا گیا اور اس پر جشن منایا گیا، فلسطین کی طرف سے اس پر شدید احتجاج کیا گیا ہے اور امت مسلمہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

حضرت ابراہیمؑ کا شہر ؟

یروشلم سے تقریبا 30 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سے شہر ہے جس کو ہیبرون اور عربی میں الخلیل کہا جاتا ہے، اس شہر میں حضرت ابراہیمؑ کا مزار ہے، اس شہر میں مسلمان ، عیسائی اور یہودی رہتے تھے مگر 1994 میں ایک اسرائیلی نے حملہ کیا جس میں 2 درجن سے زائد مسلمان نمازی مارے گئے۔

ہیبرون شہر پر اس وقت یہودی آباد کاروں کا تسلط ہے، یورپ سے یہودی آباد کار وہاں پر آئے اور یہ دعویٰ کر دیا کہ اس شہر پر ان کا تاریخی حق ہے، ان کی حفاظت کے نام پر اسرائیلی فوج تعینات کی گئی اور اب ہیبرون شہر اور حضرت ابراہیمؑ کے مزار پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں